Wednesday, 30 January 2013

نعمان امام اور شاعروں کی بھٹکتی امت کا دردمشترک
محمد ہاشم خان
ساٹھ اور ستّر کے دورانیے میں جب شہر آرزو ممبئی کے سُرخوں کی سرخ ِسحرتابی روبہ زوال تھی ۔ مجموعی ادبی فضا کی یخ بستہ سحرو شام لایعنی نظریت ،مبہم عینیت اوربے غایت مقصدیت کی موہوم، مدھم اورٹمٹاتی جلوہ ٔ خورشیدسے باہم گریزاں ،مضمحل اور بے زار سے تھے۔ جمود وتعطل، انفعالی مجہولیت ا ور افلاس زدہ بحران سے نکلنے کی کوئی راہ ،کوئی حل ، کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ،معاصربزرگ شعرا ء و ادبا اپنی بے کیف نرگسیت ، ’محروم ِعطش انا ‘کے سراب عتیق اور ’’اناالحق‘‘ کے شراب قدیم سے بے فیض حصار بند حیات کا غباروغم ہلکا کر رہے تھے تو اسی کہنہ قدح ِ شراب کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں کا پر افشاں زخم لئے ایک نئی نسل غزل کےمنفرد اسلوب اورغیرمانوس صوتی طنطنے کی حامل لفظیات ، وجدانی حسیات اور روایتی مگر قدرے صیقل زدہ جمالیات کے ساتھ شہر غزالاں میں ’غیب‘سے وارد ہوئی ۔ نعمان امام اس نئی نسل کے امام تو نہیں تھے لیکن ان میں سے ایک تھے۔
یہ المیہ ہے کہ اس امام کے مقتدی اور جوہری نہیں تھے ، حواری مواری اور پیروکار نہیں تھے جو انہیں ان کا جائز،منصفانہ ادبی مقام دلاتے ۔ یہ نعمان امام کی ناکامی نہیں ہماری ناکامی ہے۔یہاں کچھ صاحب نظر افراد کے ذہنوں میں یہ سوال پید ہوسکتا ہے کہ آیا پہلے ادیب ناکام ہوتا ہے یا معاشرہ۔ ہم بحیثیت معاشرہ ناکام ہوتے ہیں اس لئے ادیب ناکام ہوتا ہے یا ادیب بحیثیت ضمیر ناکام ہوجاتاہے اس لئے معاشرہ ابتذال واختلال کا شکار ہوتا ہے۔ یا دونوں ایک ساتھ ناکام ہوتے ہیں۔ اور پھر ادیب کی ناکامی ہے کیا؟ شہرت و ناموری کا فقدان؟ سماج کی سطحیت پسندی اور اس کے وحشت زدہ رویے سے مجبور ہوکرحصار ذات و در میں مقید ہوجانا اور پھر اسی عالم یاس اور ناقدری میں قفس عنصریں سے پرواز کرجانا ؟ یا معاشرے کی نبض شناسی ، ترجمانی اور صحیح رخ مہیا کرنے میں ناکامی؟ ۔ ان اہم ،وسیع تر اور قدرے نزاعی نکات پر آئے دن ہمارے بیشتر ’’خواجگان ادب‘‘بات کرتے رہتے ہیں بحث کو صنعتی فروغ سے پیداہونے والی نئی ضروریات کی تکمیل کے لئے کی گئی مادی مفاہمت کے پس منظر میں اپنے اپنےمنطقی انجام تک پہنچاتے رہتے ہیں ۔یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے گیسوئے جاناں کی طرح۔ لیکن جہاں تک راقم الحروف کا خیال ہے وہ یہ کہ ادیب (شاعر) ایک ادیب ہوتا ہے کامیابی اور ناکامی کے دائروں سے آزاد۔ ادیب ایک نقیب ہوتا ہے،وہ خدا اور بندے کے درمیان یا یوں کہہ لیجئے کہ فطرت اور مافوق الفطرت کے درمیان ایک پیامبر ہوتا ہے۔ وہ جہانِ معلوم اور نا معلوم کے مابین ایک کڑی ہوتا ہے۔ وہ حقیقت اور تخیل کے درمیان ایک ربط ہوتا ہے، ادراک اور تصور کے وسط میں وصل کی لڑی ہوتا ہے۔وہ ہمارے معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے۔ تو کیا نعمان امام ہمارے معاشرے کا ضمیر تھے؟ یہ نکتہ سیر حاصل بحث چاہتا ہے جس کا حق کسی مختصر مضمون سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک مبسوط، مبرہن اور مدلل مقالہ کا موضوع ہےنیز یہ تعزیتی نشست اس بات کی متقاضی بھی نہیں لہذا آئیے ان کے سرمایہ حیات ، ان کی شاعری اور تعین قدر پر بات کرتے ہیں کہ اس طرح ممکن ہے اوپر اٹھائے گئے کچھ سوالات کے جوابات مل جائیں ۔
مناسب یہ ہوگا کہ پہلے اس سوال سے بحث کی جائے کہ نعمان امام نے کس نوع کی شاعری کی ہے، اردو کی شعری روایت سے کس قسم کا استفادہ کیا ہے ؟کس سماجی ماحول اور تہذیبی پس منظر میں ان کی شاعری شروع ہوئی اور غم جاناں کی کون سی خم دار گلیوں سے گزرتے ہوئے غم دوراں کے بے آب و گیاہ بیابان میں داخل ہوئی ؟ نعمان امام نے جس دور میں تخیلات کی زلفوں اورلفظوں کے پیچ و خم کو سنوارنے کا آغاز کیا اس وقت اردو کی غزلیہ شاعری اپنی معنویت، لاادریت،جدیدیت اور لامقصدیت کی شکست و ریخت کے عمل کوزہ گری سے مہمیز ہوکر نئی جہت،نئے آہنگ، جدیداستعارات، ذاتی مشاہدات پر مبنی تشبیہات،تجریدی تصورات، لفظی تلازمات، جمالیاتی کیفیت، اثر آفریں معنویت، صوتی نقش گری، صوری کوزہ گری ، پیکر تراشی اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور غیر روایتی طرزاحساس سے عبارت ہوچکی تھی جس کا اظہار ۷۰ کے بعد کی شاعری میں بیشتر شعرا کے یہاں جا بجا، عکس در عکس اور پرت در پرت نظر آتا ہے۔ایک ایسے دور میں جو ادبی نقطہ نظر سے اختلال اور Chaos سے بھرا ہوا ہے نیز شاعر ذہنی افلاس اور کنفیوژن کی وجہ سے یا ’’پیشرو‘‘ ثابت کرنے کی کوشش میں شعوری یا غیر شعوری طور پر زندگی کا ترجمان ہونے کے بجائے ایک ’’خیالی زندگی‘‘ اپنا لیتا ہے کسی ایک ڈگر کسی ایک پنگھٹ پر بیٹھنا اور شاعری کی بِین بجانا نقش برآب کو دوام عطا کرنے کے مترادف ہے۔نعمان امام نےاس پر آشوب وقت میں اپنے اظہارِ خیالات کے لئے ’’نیم وحشی صنف سخن ‘‘کا انتخاب کیا اور کامیاب رہے ۔ ان کی شاعری ان کے ضمیر کی آواز ہے، ان کے مکمل حیات کا عکس ہے۔
یہ بوند بوند لہو کون جی رہا ہے مجھے
یہ کس کی مجھ میں حمایت ہنوز باقی ہے
سخن سخن سنا سب کا تو پھر غزل بولی
کہیں کہیں وہ روایت ہنوز باقی ہے
معنی آفرینی اردو شعریات کی ایک ایسی صفت ہے جس کا ذکر تنقیدی اشارات میں بکثرت ملتا ہے لیکن خدوخال واضح نہیں کئے گئے ہیں۔ عاشق اور معشوق سے رشتے کی نت نئی جہتیں عشق کے تجربے سے کم اخذکی گئی ہیں اور معنیٰ آفرینی و کیفیت کی صلاحیت کے زور سے زیادہ نمایاں کی گئی ہیں۔ نعمان امام کی غزلوں میں معنی آفرینی کی صفت بہت نمایاں تو نہیں لیکن جگہ جگہ ایسے اشعار ضرور مل جاتے ہیں جن میں کیفیت و معنویت دونوں بھرپور توانائی کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ شعر دیکھئے۔۔۔۔
کبھی کبھی تو اچانک ہوا ہے یہ محسوس
کہ جیسے تو بھی ملوث مرے گناہ میں ہے
میں تجھ پہ بن کےکسی دن عذاب برسوں گا
کہ تیرا نام مرےنامۂ سیاہ میں ہے
زمانہ منزل مقصود پا چکا ہے امام
ہمارا قافلہ اب تک حدود ِ راہ میں ہے
یہاں معنی آفرینی اور کیفیت دونوں صفات ایک ساتھ متصف ہیں ۔شعر چشم زدن میں قاری کو ناستلجیائی وجد اور ٹرانس میں لے جاتا ہے ۔۔۔یہ کیفیت ہے۔۔۔۔ اور ساتھ ہی فہم و ادراک کے نئے دروا کرتا ہے یہ اس کی۔۔۔ معنی آفرینی ہے۔ گناہ سے شاعری مراد ہے یا ناکام حسرتوں کا مقبرہ ۔ ابہامی اشارات کی تفہیم و تشریح قاری کی صوابدیدپر منحصر ہے۔ شاعر قاری کو سوچنے پر مجبور کررہا ہے اس لئے وہ ترسیل جذبات میں مکمل کامیاب ہے ۔مقطع میں امام کا التزام و اہتمام شعر کو مزید تنوع، وسعت اور معنویت عطا کررہا ہے۔۔۔۔ اسی ضمن میں فراقؔ کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو۔۔۔۔
مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں 
یا پھر    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
لہجے کی انفرادیت ، شعریاتی ہیئت ،اسلوب اور آہنگ کا تلازم،جمالیات کی نئی قدروں کی تلاش، نادر تراکیب و تلمیحات ،تازہ پیکر سازی ، معنی کی گہرائی و گیرائی اور۔۔۔۔۔۔ اور روایت کی پاسداری، نعمان امام کی شاعری کو اس عہد کی مانوس آوازوں سےممتاز کرتی ہے ۔ نعمان امام کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ کیجئے ۔۔۔۔ ان کی شاعری کے شش جہات پہلو نئے آہنگ و فرہنگ کے ساتھ ہمارے احساس کو منور کریں گے وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہاں وہاں سے کچھ منتخب اشعار پیش کرنے پر اکتفا کروں گاجو نعمان صاحب کے شعری تنوع اور قدرت ِ اظہار پر دسترس کی مکمل عکاسی کرتےہیں۔
سرابِ خاک اگر موجِ معتبر ہوتا
زمینِ آب پہ بھی سبزۂ شرر ہوتا
فصیل راہ کی گرتی کبھی تو در ہوتا
اذان صبح کی سنتے تو پھر سفر ہوتا
الزام ہے تجھ پر، مگر اے گردشِ دوراں
ہم تجھ سے بچھڑ کے بھی پریشان بہت ہیں
میں کررہا ہوں مرتب غمِ جہاں کی کتاب
تمھارے نام سے جس کا کہ انتساب بھی ہے
میں اس کی چھاؤں میں محفوظ رہ گذر کی طرح
وہ ریگ زار میں تنہا درخت کی مانند
ہر ایک لمحہ اٹھائے ہے اک صلیب اپنی
ہر ایک سانس کے ہمراہ ہے عذاب سا کچھ
مذکورہ بالا اشعار میں نعمان امام حیاتِ درون و بیرون کے تلخ تجربوں سے کشید کی ہوئی کیفیات ، تشنہ خواہشی اور گردش دوراں کے مسائل کے ساتھ غم انگیز گریز اور درد آگین تعلقات اور شعور کی دریافت کو ہم تک ایسے شعریاتی لہجے میں پہنچایا ہے کہ معنی کی ترسیل بھی ہورہی ہے ، زیاں کا احساس بھی ، تحریک عمل بھی اور تفریح مذاق لطیف بھی۔’اذان صبح کی سنتے تو پھر سفر کرتے‘۔۔ اس قدر پرکیف تلمیح کا استعمال اب عنقا ہوتا نظر آرہاہے۔یہ شعر اخترالایمان کی نظم’ مسجد‘ کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملول ماضی و حال گنہگار نمازی کی طرح اپنے اعمال پر چپکے چپکے رو رہے ہیں۔۔۔۔۔ میں یہ شعر پڑھتے ہوئے حضرت عمر فاروق ؓکے دور میں چلا جاتا ہوں جب اذان صبح کے بعد بادیہ نشینوں کاکاروان سحرقیصرو کسریٰ کی قلمرو کی طرف رخت سفر باندھا کرتا تھا۔خیر اب تو صرف یادیں ہیں اور بات یادوں کی آئی ہے تو ذرا یہ شعر بھی دیکھتے چلئے جو سہل ممتنع اور امیجری کا حسین امتزاج ہے
اُس مہکتے ہوئے تبسّم میں
کتنی یادوں کا مقبرہ سا تھا
مذکورہ بالا شعر کے پس منظر میں مظفر پور بہار کے ایک گمنام شاعر ظفر حمیدی کا یہ شعر قابل توجہ ہے ۔
تمہاری یاد کی شبنم کہیں گری ہوگی
ہمارے ہاتھ میں بھیگا ہوا سا کچھ تو ہے
مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ ہوں جس میں نعمان امام کی زندگی کے کئی تشنہ کام گوشے، رعشہ زدہ پرانی اور نئی قدروں کی کشمکش، عصری مسائل کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر ایک نئی بازگشت سناتے ہیں۔
میں تھک کے بیٹھ گیا دشتِ نامرادی میں
مجھے بھی زیست کی اک سعیِ کامیاب سمجھ
قطروں کی آگ دیکھ سمندر کی موج میں
گمنام زخم نام وروں میں اتر کے دیکھ
خوش منظری کا لطف کسی خوش نظر سے پوچھ
مرگِ جمال، دیدہ وروں میں اتر کے دیکھ
ہم سے خفا ہوئے تو منانے نہ آئیں گے
ہم پیڑ ہیں پھلوں کو اٹھانے نہ آئیں گے
خلاف ہوکے بھی اس سے کہاں پہ جاؤگے
ندی ندی میں یہاں کی بہاؤ اُس کا ہے
وقت جیسے کسی آندھی کا شجر ہو کوئی
زندگی جیسے دیا کوئی جلانا چاہے
یہی تو وحشتِ آوارگی نہیں اچھی
ہوا تُو خود کو ذرا، اپنے اختیار میں رکھ
یوں خواب خواب چشمِ طلب میں سما گئے
سب امتیازِ دشت و سمندر مٹا گئے
طبع بشر جمود گوارہ نہ کر سکی
ساحل سے ہم پلٹ کے سمندر میں آ گئے
دانشوری جو دسترسِ بوم و خر میں ہے
ہر کم ہنر بھی اب تو کمالِ ہنر میں ہے
کتنے دنوں میں دھوئے گا اے دستِ آفتاب
تیرہ شبی کا رنگ جو نورِسحر میں ہے
اگر محولہ بالا اشعار غزل کے جدید رجحانات اور عصری آگہی کی ترجمانی نہیں کرتے ہیں تو پھر کیا ہیں؟
اس قبیل کے اشعار دیگر معاصر شعرا کے یہاں مل سکتے ہیں، بدرجہ اتم،زیادہ بھرپور، نئی ہیئت اور مکملیت کے ساتھ لیکن یہ کہہ کر ہم شاعر کی سعیٔ سخن وری کو یکلخت جھٹک نہیں سکتے کہ اس نے فرسودہ خیال یا بار بار باندھے گئے مضامین سے اپنے دامنِ شعریات کو مملوکیا ہے۔۔۔۔ادب کا سرچشمہ تو ایک ہے خیر وشر اورحق و باطل کی جنگ اور ان آفاقی اقدار کے باہم رزم و جدل اورگریز و کشمکش کے روزن سے چھٹ چھٹ کرچھن چھن کر نکلنے والی امثبت اقدار اور ہمہ گیر صداقتوں کا فروغ ، تفہیم و تشریح اور تطبیق و تنفیذ شاعر ی کا آفاقی وصف اورمنصب ہے۔ شاعر کی فکری اساس جن اینٹوں پر استوار ہے وہ خشت ِفکر لازوال ،ہمہ گیر اور آفاقی ہے۔ خدا کی طرف سے عطا کئے گئے اس سماوی تحفے کے اظہار کے لئے اسالیب، رموز و علائم، تکنیک مختلف ہوسکتی ہیں لیکن فکری وحدت تو بہر حال وہی رہے گی۔۔۔ سر فلپ سڈنی نے شاعر کا مقام و مرتبہ فلسفی اور مورخ سے بڑا قرار دیا ہے کہ وہ تاریخ اور فلسفہ کے مابین ثالث اور حکم ہوتا ہے۔ انگریزی کے مشہور ادیب اور نقاد ٹی ایس ایلیٹ نے ایسے شاعر کو جس کے پاس ویژن نہیں ہے اور جو اپنے عین منصب سے آگاہ نہیں ہے خبطی، جنونی اور پاگل کہا ہے۔نعمان امام نہ یہ کہ صرف ویژن رکھتے ہیں بلکہ اپنے منصب شاعری سے بھی واقف ہیں ۔ ان کے کلام میں تہہ داری، اورفکری بُنت کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
میں بھٹکتی امتوں کا ایک درد مشترک
ہرزمانے میں رہا پیغمبروں کے ساتھ مَیں
یہاں ’’ساتھ مَیں‘‘ کا کوئی جواب نہیں۔شاعری کے فن اور محاسن سے واقف نکتہ رسوں سے یہ بھید پوشیدہ نہیں اور خاص طور سے ذکر بالا تلمیح کو جب اس اساطیری اور تہذیبی تناظر میں دیکھا جائے کہ حضرت لقمان حکیمؑ کو ۴۰ پیمبروں کی صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اور اسی شعر میں بھٹکتی امتوں سے اگر شعرا ءحضرات مراد لئے جائیں تو یہ درد مشترک بیان کی بیکراں حدوں سے باہر نکل جاتا ہے۔
طلسمِ شب نہ ٹوٹا تھا ابھی دل کے دریچوں پر
مری خوش فہمیوں نے لاکے تعبیر سحر رکھ دی
بگولوں کی طرح اب اُڑ رہے ہیں دشتِ امکاں میں
یہ کس تعمیر کی مٹی کسی نے دوش پر رکھ دی
ممتاز حسین’’ تنقید کے چند بنیادی مسائل ‘‘ میں رقمطراز ہیں ’’نقاد وہ ہے جو اپنے آپ کونہ تو زبان میں کھوتا ہےاور نہ ادیب و شاعر کے کلام میں۔ اس کی حیثیت ادب میں اگر ایک طرف قاری اورادیب کے درمیان ترجمان کی ہے تووسری طرف وہ ان دونوں سے آزاد بھی ہے۔ وہ ادب اور زندگی دونوں کی ہی رہنمائی کرتا ہے‘‘۔ بات تو نہایت معقول ہے لیکن اس وقت ہمارا نقاد صرف اپنے حواریوں اور مواریوں کی رہنمائی میں لگا ہے ۔ ۔۔یہ ظلم ہے کہ ایک آدمی زندگی بھر دردر کی ٹھوکریں کھاکر ،دنیا بھر کی مصیبتیں جھیل کر اپنے درون تخیلات اور وجدانی کیفیات ہم تک پہنچاتا ہے اور ہم اسے یکلخت مسترد کردیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ میاں۔۔۔۔ غالب نے یہ کہا ہے۔۔۔۔۔ اقبال نے یہ کہا ہے۔۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور اس بے چارے پر ’وغیرہکا دبیز کفن ڈال دیا جاتا ہے جس سے وہ باہر نہیں نکل پاتا کیونکہ کفن کا پردہ چاک کرنے کے لئے اس کے پاس نہ تو وہ دم خم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ وسائل اور اس طرح وہ گمنام موت مرجاتا ہے۔ یہ ہماری مجموعی معاشرتی بے حسی کا اظہار ہے ۔ نعمان امام صاحب ایسے درجنوں شاعر ممبئی میں گمنامی کا دبیز کفن اوڑھے دارآخرت کو سدھار گئے ۔ اب گریباں چاک کرنے سے کچھ نہیں ہوتا اب ادیب کا وجود نقادوں کی مرہون منت ہے ۔ قاری کو تو ادیب بہت پہلے مار چکا ہے اور ادیب کو نقاد ما ر رہا ہے۔ یہ بات بھلا شاعروں سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ آج کا شاعر۔۔۔۔۔۔ کس طرح روز حیات و ممات کی رزم گاہ سے ۔۔۔۔۔۔ کبھی بچ کر، کبھی زخم خوردہ ہوکر اور ۔۔۔۔ اورکبھی اپنی شوریدہ سری کے بخیے ادھیڑتا اور سنبھالتا ہوا گھر لوٹتا ہے۔ نعمان امام نے اس کا اعتراف اپنی ایک ڈائری میں خود کیا ہے۔ ’’ میرے ساتھ نقادوں اور تذکرہ نویسوں نے دیانت داری سے کام نہیں لیا ہے اور مجرمانہ غیر ذمہ داری اور سطحیت کا ثبوت دیا ہے میں جس ادبی حیثت اور مقام کا مستحق تھا اس کے اعتراف میں جاہلانہ خصلت سے کا م لیا گیا ۔ جبکہ ہم عصر شاعروں میں میری تخلیقات ، خدمات اور اضافے ( Contribution) اگر سب سے زیادہ نہیں ہیں تو کسی سے کم بھی نہیں ہیں اور میری ادبی حیثیت مجھ سے بہت پست درجہ کے شاعروں میں بانٹ دی گئی ہے۔‘‘۔۔ آگے وہ مزید لکھتے ہیں ’’ تاہم اس سلسلے میں حقیقت یہ ہے کہ میرے ساتھ نقادوں اور تاریخ نویسوں کا رویہ کتنا بھی معاندانہ رہا ہو کچھ میں نے بھی اپنی بے نیازی اور انا کا تسمہ لگا ہوا نہ چھوڑا۔ ادبی دنیا میں مناسب مقام اور جائز شہرت کے لئے بھی پروپیگنڈہ مشینری کی ضرورت ہوتی ہے وہ مشینری کبھی میرے پاس نہیں رہی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب میں بھی گروپ بندی ، سمجھوتہ بازی اور سگ درحضور بہ از برادر دُو ر ۔۔۔ کا دور شروع ہوچکا ہے۔‘‘ شاعر کم ظر ف ہوتا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ کم ظرف ہونا شاعری کے تقاضوں میں سے ایک ہے یا نہیں لیکن میں نے اپنی زندگی میں کسی بھی اردو ادیب اور شاعر کو اعلیٰ ظرف نہیں پایا۔ کم ظرف کے ساتھ ساتھ اس کو تضادات کا مجموعہ پایا ہے۔ نامراد شاعر اور بھی بڑا کم ظر ف ہوتا ہے اور غالبا یہی اس کی محرومی کی اصل وجہ بھی ہوتی ہے اور نقاد کم ظرفی کا خالق ، منبع و مخرج ہوتا ہے اور اگر اتفاق سے وہ نقاد ناکام شاعر بھی رہا ہے تو ؟؟؟ آپ احباب خود اندازہ لگالیجئے۔ نقاد خود کو ماورائی دنیا کا فرستادہ نقیب اور صدائے ہاتف خیال کرتا ہے اور فن پارہ پر اس کی رائے خدائی رائے ہوتی ہے۔اسی لئے وہ شاعر کو پیمبر یا فرشتے کے طور پر دیکھنے کا عادی ہوتا ہے کہ اسے یہی منصب دے کر بھیجا گیا ہے۔ نعمان امام، ارتضیٰ نشاط، عبداللہ کمال، نظام الدین نظام، عبدا لاحد ساز، کلیم حیدر شرر اور شفیق عباس جیسے دیگر محترم شعرا کی گمنامی کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں بلکہ یہ نامور نقادان و سخن فروشگان ہیں جو ’’ ہاتف نے کہا گنج معانی ہے تہہ خاک‘‘۔۔۔۔۔۔ کو سن نہیں سکے اور تہہ خاک گنج معانی کو نکال نہیں سکے۔ جدید شعرا کےکلام کو اگر کوئی چیز تادیر زندہ رکھ سکتی ہے تو وہ صرف فکر نہیں بلکہ فکری وسعت کے ساتھ نئے اسالیب،ہیئت، رموز و علائم اور استعاروں کی تلاش نیز تمثیل نگاری اور پیکر تراشی کے نئے افق اور جہت کی دریافت بھی ہے ۔ جہاں تک نعمان امام کی شاعری کے تعین قدر کی بات ہے تو وہ اپنی جہت میں اور تلاش اسلوب ورمزیت میں کامیاب ہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فلسفٔہ شاعری کی بنیادی فکر۔۔۔ خیر وشر کے مابین رزم ہے۔۔۔۔ یہی وہ آفاقی اقدار ہیں جو ہومر سے لے کر ہوریس تک، گوئٹےسےلے کراسکاچل تک اور حافظ سے لے کر غالب تک تمام بڑے شعرا کے یہاں پائی جاتی ہیں تنوع اور بھرپورتوانائی کےساتھ، تازگی اورلطافت کے ساتھ ۔معاصر غزل میں فکری وسعت عہد رفتہ کے تاریخی،تہذیبی اور ادبی تسلسل کی توسیع میں مضمرہےلیکن یہ توسیع متعین کردہ ’’نقش غیر‘‘پر نہیں بلکہ ’’نقش ِ خود ‘‘کے ساتھ ہونی چاہئے۔

 

No comments:

Post a Comment