اناہزارے،میڈیا اور برانڈ انا
لوک پال تمام مسئلوں کاحل یا فتنوں کا نیا مرکز؟
محمد ہاشم خان
دن بہ دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں گرانی،روز بروز بڑھتی مہنگائی،غریبی اور بے روزگاری،کسانوں کی بھکمری، خودکشی ،خودسوزی اور شورش زدگی ،خواتین کی مفلسی، طفل کشی اور بچہ مزدوری، ’پُرامن ہندوستان‘ کی’پُرفتن‘ ریاستوں میں سرکاری ،فوجی اور ادارہ جاتی استحصالی عدوان ومظالم،احساس عدم تحفط،بے بسی اور بے گانگی،عوام میں مستقل بڑھتی بے چینی،اضطراب اور فکرمندی،مخصوص مذہبی،سماجی اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے فکری،علمی ،قلمی اور ثقافتی دہشت گردی نیز کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک ہمارے اِس ذہنی اور جمہوری طور پر جامدناہموارا،غیر بالغ اورنرگس ِبیمارمعاشرے میں رونما ہونے والے چھوٹے بڑے تمام مسائل کو صرف ایک مسئلے نے پس پشت کردیا ہےاور وہ ہے انا ہزارے کا مسئلہ۔ ایک ایسا مسئلہ جو جاہل ونیم جا ہل، ناخواندہ ونیم خواندہ ،شریرومعصوم عوام،بےضرر ، بےکار اور بے فیض نوجوانوں، بے چہرہ ،بے ننگ اور بے جان ہجوم کو تمام مسئلوں کا حل ’حل مشکلات ‘ نظر آرہا ہے۔غریبی،مہنگائی اور بے روزگاری سے جوجھ رہے ’بے چاروں‘ کے لئے قحط الرجال کے اس دور میں ایک ارب سے زائد آبادی والے اس ملک عزیز میں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایک دو نہیں ہزاروں انا ہزارے ہوتے لیکن سوئے قسمت اور حیف صد حیف کہ صرف ایک ہی انَّا ہزارے ہیں اور’ عاشق (کرن بیدی ،اروند کیجری وال،پرشانت بھوشن)کا گریباں‘ ہیں(جودوسروں کو پنپ کر اپنے جیسا نہیںہونے دیتے۔۔۔بالکل سوکھے برگد کی طرح)۔ وہی ’مشکل کشا اورمستجاب الدعوٰۃ‘ ہیں لہٰذا بائی ڈیفالٹ اب وہی منبع وہی ملجا ،وہی ماویٰ وہی مخرج،وہی محور وہی مرکزٹھہرے،بس اب وہی اس ملک کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔وہی سادہ لوح،کورچشم اوربےزبان عوام کو قوت گویائی عطاکرسکتے ہیں اور وہی بدبختوں،ناہنجاروں اورروسیاہوں کا نصیبہ سنوار سکتے ہیںکیونکہ وہ ایک ایسے مسئلے کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں(جس کے بغیر وہ خود کھڑا نہیں ہوسکتے تھے) جو ملک کو نراج،بدامنی، اورتباہی کےآتش فشاں دہانے کی طرف لے جارہاہے۔۔۔ایک ایسا مسئلہ جس پر چائے سے زیادہ کیتلی گرم محاورے کو کما حقہ سچ ثابت کرنے والے ہمارے سوشل کارپوریٹ میڈیا کے مطابق پورا ملک انا کے ساتھ ہے،اب یہاں یہ سوال پوچھنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں بچتی کہ جب پورا ملک انا کے ساتھ ہے ،ہندوستان انا ہے اورانا ہی ہندوستان ہے تو پھر کرپٹ کون ہے،بدعنوان کون ہے،بے ایمان کون ہے؟ کیاا نا کی حمایت کرنے والا ’پورا ملک ‘کرپٹ بے ایمان اوربدعنوان ہے؟
تقریباً گزشتہ ایک ماہ سے وطن عزیز کےچھوٹے بڑے،اخور بخور،اچھے برے ’جائزوناجائز‘ایمانداروبےایمان مقامی،ریاستی اور قومی اخباروں اور ٹی وی چینلوں میں ایک ہی چہرہ،ایک ہی خبر ۔۔۔مواد میں ہلکی پھلکی تبدیلیوں کے ساتھ۔۔اور ایک ہی آواز ( وقتاً فوقتاً ذائقہ زبان میں تبدیلی لانےکے ساتھ) شاہ سرخی بنتی آرہی ہےاور کیوں نہ بنے کہ بالآخر ’یہ دوسری جدوجہد آزادی ہے‘ اور انا کے چند ذہنی مفلوج جنونیوں کے مطابق یہ’ دوسری تحریک آزادی ‘بابائے قوم مہاتماگاندھی کی اصل تحریک آزادی سے زیادہ بڑی اور اہم ہے۔میڈیا نے حسب معمول اور حسب توقع اپنے سلاٹس کو عوامی جذبات کی لہروں،موجوں اور دھاروں پر کارپوریٹ کمپنیوں کے اشتہارات منہ مانگے داموں میں فروخت کرنے کے لئےجو نہایت منفی اور معصوم ذہنوں کوتباہ کرنے والی رپورٹننگ کی ہے وہ قابل نفریں ہے۔میڈیا نے معصوم نوجوانوں اور سادہ لوح عوام کو یہ قائل اورباور کرانے نیز اس گمان میں مبتلاء کرنے کی کوشش کی کہ انا کی انسداد بدعنوانی مہم میں وہ انا اور انا کی حمایت کرنے والے ’پورےملک‘ کے ساتھ ہےاور اس طرح میڈیا نے حسب گمان ایک اور بدعنوانی کی۔عوام کے جذبات کو استحصال کرنے کی بدعنوانی،جذباتی موجوں کے سہارے اپنے مفاد کی نیّا پار کرنے کی بدعنوانی اور اس بھرم میں مبتلاء کرنے کی بدعنوانی کہ وہ بدعنوانی کے خلاف ہے۔یہ میڈیا کی طغیانی ہے صریح طغیانی اورانا کے لوک پال بل میںمیڈیاکی اس اخلاقی بدعنوانی کی نہ تو نکیر کی گئی ہے اور نہ ہی کسی سطح پر سرزنش اور جہاں تک میڈیا کی اخلاقیات کی بات ہے تو وہ جارج برناڈ شا کے مشہور ڈرامے پگ مے لیئن (Pygmalion) کے ایک کردار کے اِس سوال کی ترجمانی کرتا ہے ’’کیا تمہارے پاس اخلاقیات (مورَیلٹی) نام کی کوئی چیز نہیں ہے ؟ ‘‘ تو اسے جواب ملتا ہے ’’سوری! میں اسے افورڈ نہیں کرسکتا‘‘۔اگر میڈیا سے اس وقت یہی سوال پوچھ لیا جائے تو یقیناً اُس کا بھی یہی جواب ہوگا’’کیا؟؟؟؟ اخلاقیات؟؟؟؟اماں تم کس دنیا میں رہتے ہو؟؟؟؟ یہ ہم افورڈ نہیں کرسکتے‘‘ اور واقعتاً یہ بہت بڑا سچ ہے کہ میڈیا میں چند معدودے اداروں کو چھوڑ کرکوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جوانٹنٹ اور کنٹنٹ (نیت اورمواد) کے معاملے میں صحافت کے اخلاقی فرائض کو پورا کرتے ہوںاور اگرلوک پال بل کے مقصد عظیم نیز انا کی ناقابل تسخیرہمالیائی کسوٹی پر جانچنے کی کوشش کریں تو کوئی بھی ادارہ پاک صاف نظر نہیں آتا اور تو اور خود انا بھی اس غیر عملی اور قدرے تخیلاتی کسوٹی پر کھرے نظر نہیں آتے اور ان کی شبیہ بھی لوک پال کے شفاف عکس کے بالمقابل گندلی اور مٹ میلی نظرآرہی ہے۔یہاںلوک پال کا خالق اپنی تخلیق سے چھوٹا نظرآرہا ہے۔
جو میڈیا آج انا ہزارے کی حمایت میںبڑھ چڑھ کر بدعنوانی کے خلاف ’ہرزہ سرائی اور زہرافشانی‘ کر رہا ہے وہی میڈیاالیکشن کے دنوں میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو اپنے قیمتی سلاٹس ’پیکج ‘ کے طور پر فروخت کرتا نظرآتا ہے اور اگرکوئی لیڈر اُن کے اس پرکشش دام تزویر میں پھنستانظر نہیں آتا ہے تو پھراُن کے اندر کا راکشش باہر آجاتاہے اور ’پیکج‘ کی شکل میں پُرکشش ’پیشکش ‘ باقاعدہ اور باضابطہ ’بلیک میلنگ‘ میں تبدیل ہوجاتی ہے’سر ہمیں معلوم ہے آپ کا ذریعہ آمدنی کیاہے‘میڈیا کی بدعنوانی،طغیانی،صحافتی بددیانتی اور بے ایمانی کایہ وہ سچ ہے جو صحافتی پیشہ سے وابستہ ہرفرد،سیاسی جماعتوں سے جڑا ہر رکن اور کارپوریٹ کمپنیوں اور انڈیا اِنک کا ہر پی آر یا ایونٹ مینیجر جانتا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ میڈیا اتناکرپٹ ہونے کے باوجود ہزارے کے یہاں کرپٹ نہیں اور وجہ بالکل صاف ہے کہ آخر میڈیا،ایونٹ منتظمین اورکارپوریٹ کمپنیوں کی این جی اوز کی شکل میں پیداکردہ ناجائز اولادوں کے دم سے ہی تو یہ پوری تحریک چل رہی ہے ،یہ پورا انقلاب لایا جا رہا ہے جو بہت ہی چمتکاری ہے ٹی وی بندہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے اور جہاں تک رام لیلا میں موجود بے چہرہ جم غفیر کی بات ہے تو یہ ہجوم بس ذرا مختلف اوتار میںہرجگہ موجود ہوتا ہے ،کہیں ہرہرمہادیو کے نعرے لگاتے ہوئے توکہیں جے شری رام کی مالا جپتے ہوئے۔یہی ’بے چہرہ‘ ہجوم اس وقت بھی تھا جب دن دہاڑے بابری مسجد کو شہید کیا گیا اور اُس وقت بھی جب دو ماہ تک گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام جاری رہا۔اور یہ بھی کوئی معجزے کی بات نہیں کہ میڈیا ،این جی اوز اور آرمی تینوں لوک پال بل کے دائرہ سے خارج ہیںاور جس ادارے کو فی الحقیقت اس ’چراغ الٰہ دین‘ یعنی لوک پال کے دائرے سے خارج ہونا چاہیئے اس کولوک پال کے دائرے میں لانے کے لئےاناہزارے نے کشمیر سے لے کرکنیاکماری تک کو ایک کردیا ہے(پہلے کشمیر اور کنیاکماری ہندوستان کے جغرافیہ میں دوانتہائیں تھیں مگر انا کی دس دنوں کی بھوک دونوں انتہاؤں کے درمیان خلیج کو کھاگئی ،اب کشمیر سے کنیاکماری تک سب ایک ہوگیا ہے)۔
اول تو شروع سے ہی یہ شکایت ہوتی آرہی ہے کہ ہمارا وزیر اعظم بہت کمزور اور ربرکی مہر ہے اور اسے اب اور کمزور کیا جا رہاہےاوراس حماقت کو ہم اپنی جیت سمجھ رہے ہیں۔حیرت ہے کہ ایک شخص کی خباثت اب لوگوں کو کرامت نظرآرہی ہے۔اور اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہمارے قومی اخلاقی کردار کے فقدان کو کرنسی میں تبدیل کردیاگیا ہے ،اب اخلاقی بدعنوانی کوئی بدعنوانی نہیں ،جو بھی ہے وہ کرنسی کی بدعنوانی ہے۔ملک میں جتنے بھی 24/7 نیوز چینل ہیں بلامبالغہ یہ کہنے میں کوئی تأمل نہیں کہ بیشترادارےکارپوریٹ کمپنیوں ،بیروکریٹس اور سیاستدانوں کے درمیان،توڑ پانی،مول تول ،مفاہمت اور سودے بازی کا محورومرکز بن چکے ہیں۔ دور جانے یا دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں،رادیہ کے ٹیپ ریکارڈس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ چشم کشا ہیں۔ملک میں موجود بیشترمیڈیا ہاؤسزبےایمان ،بدکردار اور بدعنوان ہیں۔ یہ خبروں کو دباتے ہیں،ان خبروں کو جن سے ان کے مفادات پرکاری ضرب لگنے والی ہوتی ہےاور وہ موقع و محل کی مناسبت سے رپورٹر کو صحیح ’راستہ‘ بھی دکھادیتے ہیں اور وہ رپورٹریا صحافی جو سماج میں پائی جانے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کے خلاف آوازیں اٹھاتاہے،جو حقائق کا متلاشی ہوتا ہے، قلمی جہاد کرتا ہے اپنے اسی ادارے میں جس میں وہ کام کرتے ہوئے اپنے بشری سماجی فرائض ایمانداری سے انجام دیتا ہے اپنے ہی حق کے لئے آواز نہیں اٹھاپاتااور وہ اُس وقت سماج کا سب سے زیادہ ستم رسیدہ آدمی ہوتا ہے۔اس سے صرف یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق کے لئے لڑے اپنے حق کےلئے نہیں۔آخر ہمارا میڈیا جب بدعنوان نہیں ہے تو وہ کشمیری سچ کو کیوں نہیں لکھتا وہ اُس سچ کو کیوں لکھتا ہے جسےہماری سرکار سچ مانتی ہےاورجوسچ نہیں ہوتا۔ہمارے اس باوقارمیڈیا نےاناہزارے کے فریم کے ساتھ ایک آدھ فریم ایروم شرمیلا کا کیوں نہیں دکھایا،ایروم شرمیلا نے جب اناہزارے سے درخواست کی کہ وہ ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں منی پور،سکم اورناگالینڈ میں نافذآرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کو ختم کرنے کے لئے جس کے لئے وہ خود گزشتہ دس سال سے بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں آپ آواز اٹھائیں اوراِس ’عاشقِ بدعنوان‘نے جو کہ سابقہ فوجی ٹرک ڈرائیور ہونے کے ناطے مذکورہ قانون کی تنسیخ کا مطالبہ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ ’دیش دروہی‘ اور ’فوجی خاندان‘ یا ملٹری امپائر کے ساتھ غداری کے زمرے میں آجائے گا، جب کوئی لب کشائی نہیں کی تومیڈیا نے بازپرس کیوں نہیں کی؟۔میڈیااِس وقت اناہزارے فنومنا(مظہر) کو کیش کرنے کے تمام حربےاستعمال کر رہاہےاورمورکرسٹیئن دین دا کرائسٹ(More Christian than the (Christ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ سے زیادہ بڑا عیسائی یابہ الفاظ دیگر دین مسیح کا حضرت عیسیٰؑ سے زیادہ بڑا پیروکار ہونےکاکا کردار اداکرتا ہوا نظرآرہاہے لیکن ’سچ مت کہو چپ رہو‘ ٹریڈ مارک والےاُنہیں اداروں میں ایمانداری سے کام کرنے والے افرادکوسچ نہیں بولنے دیتے، یہ سچائیوں کو دباتے ہیں ،ان سچائیوں کو جو ہماراقومی کردار تشکیل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں،روشنی پھیلانے والے یہ ادارے خود روشنی سے ڈرتےہیں۔
میڈیا کی اخلاقی اور کرنسی بدعنوانی کی سیکڑوں مثالیں ہیں میڈیا کا پوراکا پورا وجود ایک بھرم پر ٹکا ہوا ہے اور اور وہ بھرم یہ ہے کہ وہ جمہوریت کا چوتھا ستون ہے جبکہ اصل میں یہ جمہوریت کےچوتھے ستون کا نہیں بلکہ اخلاقی بدعنوانی کو جواز فراہم کرنے والا کردار ادا کررہے ہیں۔اور ان کے مالکان اپنے اس کردار سےخوب واقف ہیں۔جن کمپنیوں کے اشتہارات یا’جبری خیرات‘ کی وجہ سے ہمارے نیوز چینل چلتے ہیں کیا وہ کمپنیاں کرپٹ نہیں ہیں؟اگروہ کمپنیاں آج یومیہ،ماہانہ اور سالانہ ہزاروں کروڑ کا ٹرن اوور کرتی ہیں تو کیا یہ جائز طریقہ سے کمائی ہوئی آمدنی ہے؟آخراتنا پیسہ ان کے پاس کہاں سے آیا؟قطرہ قطرہ سمندر بنا ؟۔ایسا قطعاً ممکن ہی نہیں۔بےایمانی کئے بغیر آپ کا امیر ہونا تقریباً ناممکن سا ہے۔ اگرآپ لکھ پتی یا کروڑ پتی ہیں تو یقیناً یہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی آمدنی نہیں ہوسکتی کیونکہ ہمارے’ سرکار‘ کےپاس غریب رعایا کوایمانداری کے ذرائع سے لکھ پتی بنانےوالی ایسی کوئی پالیسی ہی نہیں ہے،سرکار چاہتی ہی نہیں کہ اس کی’ غریب جنتا ‘ امیر ہوجائے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب سرکار کرپٹ ہے تو اس کا طریقۂ کار بھی کرپٹ ہوگا،اس کے پروگرامز اور اسکیمیں بھی کرپٹ ہی ہوں گی اورپھر وہ لوگ بھی کرپٹ ہی ٹھہریں گے جو ان اسکیموں اور پروگراموں سے مستفید ہوتے ہیںکیونکہ وہ ایک کرپٹ حکومت کے کرپٹ اسکیموں کا گرچہ ایمانداری سے ہی کیوں نہ سہی استعمال کرتے ہیں ۔یہ گھر گھر کی کہانی ہے،یہی سچ ہے،یہ گاؤں دیہات سے لےکر شہروقصبات کی کہانی ہے،یہ میری اور آپ کی کہانی ہے یہ انا کی کہانی ہے۔ اس ملک میں کون ہے جس کے پاس جائزآمدنی ہے؟سچ تو یہ ہے کہ جائز آمدنی تو قلاشوں اور فقیروں کےپاس بھی نہیں۔وہ بھی پولس کو ہفتہ دیتے ہیں۔
کیا انا ہزارے کو نہیں معلوم کہ ایک کمپنی قائم کرنے کے لئے فائل کیسے کیسے، کہاں کہاں اور کس کس کے پاس سے ہوکر گزرتی ہے؟ممکن ہے انا ہزارے کرپٹ نہ ہوں لیکن کیا ان لوگوں سےگھرے ہوئے نہیں ہیں جومالی اور اخلاقی طور پر کرپٹ ہیں؟کیاسچ کو دبانا اخلاقی بدعنوانی نہیں؟ ایک وکیل یہ جانتا ہے کہ اس کا موکل خاطی اور قصور وار ہے پھر بھی وہ اس کا دفاع کررہا ہے کیونکہ یہ اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے،اس نے گناہ کو معصومیت میں تبدیل کرنے کے پیسے (معاف کرنا رشوت نہیں) لئے ہیںلیکن وہ اپنی اس پیشہ ورانہ ذمہ داری میںکیا وہ سچ کا خون نہیں کررہاہے؟ اب اگر وہ مجبوراًکر رہا ہے تو یقیناً اُس سے زیادہ مجبور اورلائق رحم آدمی دنیا میں کوئی اور نہیں( لہٰذا پرشانت بھوشن نہایت مجبور اوراخلاقی طور پر’بدعنوان‘ ہیں) اور اگر قصداًکر رہا ہےتو اس سے زیادہ بڑا مجرم کوئی اور نہیں۔کرن بیدی غیرذمہ دار پولس افسر تھیں اور چونکہ ان کو دہلی کی پولس کمشنری کا عہدہ نہیں ملا اس لئے وہ اپنی انا نہیں بلکہ ’ہین بھاؤناوں‘ کو خوراک بہم پہونچاتے ہوئےملازمت سے رضاکارانہ طور پر مستعفیٰ ہوگئیں(لہذا مالی طورپر تو نہیں لیکن اخلاقی طور پر وہ بھی زہدوپارسائی کا دعویٰ نہیں کرسکتیں۔ اروند کیجری وال آر ٹی آئی کے نام پر دلی اور نوئڈا میں اپنا گورکھ دھندا چلا رہا ہو یا نہ چلا رہا ہو،وہ بلیک میلنگ کا بزنس کرتا ہو یا نہ کرتا ہو لیکن اس کے این جی او کی مالی اعانت کرنے والے ارب پتی افراد نہ تو مالی اور اخلاقی طورپرایماندا رہوسکتے ہیں اور نہ ہی اتنے بھولے بھالے کہ بغیر کسی مفاد کے کیجری وال کو لاکھوں روپئے کا عطیہ دیں۔اب بس لے دے کر ایک ہی آدمی بچتا ہے او روہ ہے انا ہزارے۔اب جہاں تک انا ہزارے کی بات ہے تو وہ ممکن ہے کہ مالی طور پر بدعنوان نہ ہوں لیکن جو آدمی کرنسی کی بدعنوانی کو ہی اصل بدعنوانی سمجھتا ہو وہ اگر اپنی نجی زندگی میں اخلاقی طور پر بدعنوان ہو،’ہریجنوں‘ کو ہریجن سمجھتا ہو،بھیدبھاؤ ،ذات پات اور علاقائیت پر یقین رکھتا ہو،می مراٹھی مانس اور راج ٹھاکرے کی حمایت کرتا ہو،مودی کی تعریف کرتا ہو،آرایس ایس سے انفلوئنس(متأثر ہونا) ہوتا ہو،شردپوار کو سادھو سنت قراردیتا ہو، شری بال ٹھاکرے سے ڈرتا ہو،ولاس راؤ دیشمکھ کے اشارے پراین سی پی کے بدعنوان اراکین اسمبلی کی فائل کھولتاہو اور ان کے خلاف دھرنےپر بیٹھ جاتا ہو،گجرات فساد،بابری مسجد کی شہادت،۱۹۹۳ کے فرقہ وارانہ فسادات،بھوپال گیس سانحہ،نکسلزم،کشمیری جنگجوئیت اور معصوموں کی ہلاکت پر کچھ نہ بولتا ہو وہ اخلاقی طورپر بدعنوان نہیں تو پھر کیا ہے۔شائد یہ سمجھنے میں لوگوں کو وقت لگے کہ ہزارے ایک برانڈ بننا چاہتے تھے سو وہ بن گئے،ایک ایسا برانڈ جو ہر اس شخص کے لئے دستیاب ہے جو ان کی کبھی نہ ختم اور بجھنےوالی بھوک ہڑتال کی خواہش کو پورا کرتا ہو،اب وہ کانگریس بھی ہوسکتی ہے، بی جے پی بھی ہوسکتی ہے اور آرایس ایس بھی۔سادہ لوح عوام کو (جس کا غصہ اور بھولنے کی بیماری دونوں ہم ممبئی حملہ میں دیکھ چکے ہیں)جوآج اناکوگاندھی سے تعبیر کررہے ہیں شائد یہ معلوم ہونے اور سمجھنےمیں وقت لگ جائے کہ انا ہزارے کا سب سے بڑا جرم کیا ہےلیکن معاشرے کے باشعورافراد یہ جانتے ہیں کہ انا کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ان کے یہاں کرنسی کی بدعنوانی کی جگہ اخلاقی بدعنوانی جائز ہےاوراگر سب لوگ اسی نہج پر سوچنے لگے (حالانکہ غالب اکثریت جس کی نمائندگی اناہزارے کررہے ہیں ایسا ہی سوچتی ہے) تو یہ ملک کے لئے اور بھی برا وقت ہوگا اور پھر شائد آنے والی نسل اس جرم کے لئے انا کو کبھی معاف نہ کرے ۔۔۔
مان لیتے ہیں کہ اناہزارے کا قانون بائبل ہے تورات ہے،گیتا ہے’ قانون فطرت‘ ہے جس سے مفر ممکن نہیں،ہم یہ مان لیتے ہیں کہ روٹی ،کپڑا اور مکان نہیں لوک پال ہماری بنیادی ضرورت ہے ۔فرض کرلیں کہ لوک پال بل کاغذ پر عالم خیال میں تمام مسائل کا حل ہے لیکن عملی زندگی میں اس کی اگر ۱۰۰ نہیں تو کم ازکم ۹۰ فیصد تطبیق اور تنفیذکو یقینی کیسے بنائیں گے؟اگر لوک پال بل منظور ہوگیا،اسے آئینی حیثیت حاصل ہوگئی تواسکے افراد کہاں سے لائے جائیں گے،موجودہ سرکاری ڈھانچے سے یا پھرروزگار پیدا کرنے کا ایک اور راستہ کھولا جائے گا؟اور ان سب افراد کے ایماندار ہونے کی سرٹیفیکیٹ کون دے گا؟اگر نئی بھرتی ہوگی تو یہ کیسے پتہ چلایا جائے گاکہ یہ آدمی آگےچل کر کرپٹ نہیں ہوگا اور اگر موجودہ ڈھانچے میںسے افراد لائےجائیںگے توکیا وہ ایماندار ہوں گے؟ موجودہ بدعنوان سرکاری ڈھانچہ کاسرکاری نوکراور ایماندار؟؟؟یہ تو معجزہ لگتا ہے۔اورپھر اِس زندہ و جاوید معجزے کے ایماندار ہونے کی سندپرکون دستخط کرےگا؟اور جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ لوک پال کا آدمی جب اتنے سارے اختیارات پانے کے بعد زمینی سطح پر آکر کام کرے گا توکیا وہ اللہ میاں کی گائے بن کر رہے گا؟ جب ممبئی میں انڈرورلڈ گینگ سے نمٹنے کے لئے پولس کو انکاؤنٹر کے اختیارات دیئے گئے تو سب نے دیکھا کہ پولس نےان قانونی اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےفورس کے اندر ایک اور فورس قائم کرلیا تھا اور اب جو کام لوگ مافیا سربراہوں سے کراتے تھےوہ پولس سے کرانے لگے تھے۔نتیجتاً پولس اور گینگ کے درمیان ایک تعلق قائم ہوگیا۔ انڈر ورلڈختم تو ہوا لیکن پولس کی ہی ایک دوسری شکل بن کر۔اب پولس کی ایک شکل تو وہ تھی جو زمین پرنظرآرہی تھی اور ایک شکل وہ تھی جوانڈرگراؤنڈ تھی ،غیر مرئی تھی اور سفاک تھی۔لوک پال بھی فورس کے اندر ایک اور فورس پیداکرے گا اور ایک دن پھر اس کی بھی تنسیخ کا مطالبہ اتنی ہی شدت سے کیا جائے گا جتنا آج اس کے نافذ کئے جانے پرکیا جارہا ہے۔
ہندوستان میں لوگ قانون کی عزت قانون کے احترام میں نہیں کرتے بلکہ قانون کے خوف سے کرتے ہیں لہٰذا جہاں خوف ہے وہیں قانون ہے اور جیسے ہی خوف گیا قانون بھی گیا۔یہ قطعاًبالغ اورصحت مند معاشرے کی علامت نہیں۔ہم نے ایک ایسا عفریتی ماحول پیداکیا ہے جہاں ہم عوام کے سامنے قانون ایک طاغوت اور ایک عفریت کی شکل میں پیش کرتے ہیںاور عوام کے اندر خوف کے جذبات پیداکرتے ہیں،نہ توہم قانون اس مقصد سے بناتے ہیں اور نہ ہی اس طرح متعارف کراتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں قانون کےخوف کی بجائے اس کا حترام پیدا ہو۔ہمارے یہاں قانون کا مطلب اصلاح نہیں بلکہ سرزنش ہوتی ہے اورجب تک ہم سرزنش کے مقصد سے قانون بنائیں گےقانون بنتے اور بگڑتے،آتے اور جاتے رہیں گے، اس کا کوئی مثبت ماحصل نکلنے والا نہیں،۔لوک پال بل میں بھی اصلاح کا مقصد کم اور سرزنش زیادہ نظر آتی ہے،کارخیر پرنیت ِشر حاوی ہےاور اس مقصد کو مدنظر رکھ کر جو بھی سخت قوانین بنائے گئے آج ان کا حشر ہم ردی کی ٹوکری میں دیکھ رہےہیں۔افسوس صد افسوس ۔ وائے رے بدقسمتی کہ یہ عاشق کا گریباں ہونے کے طرہ امتیاز سے بھی محروم رہے۔ ٹاڈا یوں تو تجمل حسین خان کے لئے بنا تھا سب کو معلوم ہےلیکن جب رام لکھن وغیرہ بھی پھنسنے لگے توحکومت کو لگا کہ کہیں کچھ غلطی ہوگئی ہے اس لئے یہ قانون واپس لے لیتے ہیں۔پوٹا کا بھی وہی حشر ہوا ،بی جے پی پوٹا بنا کربہت خوش تھی کہ دہشت گردوں نے پارلیمنٹ پردھاوا بول کر پوٹا کا عظیم الشان خیر مقدم کیااور پھر دہشت گردوںکی جانب سے پوٹا کااستقبالیہ جگہ جگہ منایا گیا۔عائلی تشدد اور جہیز ، تحفظ حیوانات ایکٹ، ایٹروسٹیز ایکٹ جیسے ایسے پتہ نہیں کتنے ایکٹ دفعات اور قوانین ہیں جن کا بہت احترام سے ہم النگھن کرتے ہیں۔سوال پھر وہی ہے کہ جو چیز ہمارے قومی کردارومزاج کا حصہ نہیں ہم لوگوں کو قانون کی ’بےاثر جادوئی چھڑی‘ سے اس کا مکلف کیسے اور کب تک بنائیں گے؟
ایک سوال: جب لوک پال بل کا غلط استعمال ہوگا تو انا جی کی روح پر کیا گزرے گی؟
No comments:
Post a Comment