Wijdaan - وجدان
وجدانی آگہی سے لے کر دہقانی شعور تک تمام کیفیات کی ترسیل
Wednesday, 30 January 2013
نعمان امام اور شاعروں کی بھٹکتی امت کا
دردمشترک
محمد ہاشم خان
ساٹھ اور ستّر کے دورانیے میں جب شہر آرزو
ممبئی کے سُرخوں کی سرخ ِسحرتابی روبہ زوال تھی ۔ مجموعی ادبی فضا کی یخ بستہ سحرو
شام لایعنی نظریت ،مبہم عینیت اوربے غایت مقصدیت کی موہوم، مدھم اورٹمٹاتی جلوہ ٔ
خورشیدسے باہم گریزاں ،مضمحل اور بے زار سے تھے۔ جمود وتعطل، انفعالی مجہولیت ا ور
افلاس زدہ بحران سے نکلنے کی کوئی راہ ،کوئی حل ، کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی
،معاصربزرگ شعرا ء و ادبا اپنی بے کیف نرگسیت ، ’محروم ِعطش انا ‘کے سراب عتیق اور
’’اناالحق‘‘ کے شراب قدیم سے بے فیض حصار بند حیات کا غباروغم ہلکا کر رہے تھے تو
اسی کہنہ قدح ِ شراب کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں کا پر افشاں زخم لئے ایک نئی نسل غزل
کےمنفرد اسلوب اورغیرمانوس صوتی طنطنے کی حامل لفظیات ، وجدانی حسیات اور روایتی
مگر قدرے صیقل زدہ جمالیات کے ساتھ شہر غزالاں میں ’غیب‘سے وارد ہوئی ۔ نعمان امام
اس نئی نسل کے امام تو نہیں تھے لیکن ان میں سے ایک تھے۔
یہ المیہ ہے کہ اس
امام کے مقتدی اور جوہری نہیں تھے ، حواری مواری اور پیروکار نہیں تھے جو انہیں ان
کا جائز،منصفانہ ادبی مقام دلاتے ۔ یہ نعمان امام کی ناکامی نہیں ہماری ناکامی
ہے۔یہاں کچھ صاحب نظر افراد کے ذہنوں میں یہ سوال پید ہوسکتا ہے کہ آیا پہلے ادیب
ناکام ہوتا ہے یا معاشرہ۔ ہم بحیثیت معاشرہ ناکام ہوتے ہیں اس لئے ادیب ناکام ہوتا
ہے یا ادیب بحیثیت ضمیر ناکام ہوجاتاہے اس لئے معاشرہ ابتذال واختلال کا شکار ہوتا
ہے۔ یا دونوں ایک ساتھ ناکام ہوتے ہیں۔ اور پھر ادیب کی ناکامی ہے کیا؟ شہرت و
ناموری کا فقدان؟ سماج کی سطحیت پسندی اور اس کے وحشت زدہ رویے سے مجبور ہوکرحصار
ذات و در میں مقید ہوجانا اور پھر اسی عالم یاس اور ناقدری میں قفس عنصریں سے
پرواز کرجانا ؟ یا معاشرے کی نبض شناسی ، ترجمانی اور صحیح رخ مہیا کرنے میں
ناکامی؟ ۔ ان اہم ،وسیع تر اور قدرے نزاعی نکات پر آئے دن ہمارے بیشتر ’’خواجگان
ادب‘‘بات کرتے رہتے ہیں بحث کو صنعتی فروغ سے پیداہونے والی نئی ضروریات کی تکمیل
کے لئے کی گئی مادی مفاہمت کے پس منظر میں اپنے اپنےمنطقی انجام تک پہنچاتے رہتے
ہیں ۔یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے گیسوئے جاناں کی طرح۔ لیکن جہاں تک راقم الحروف کا
خیال ہے وہ یہ کہ ادیب (شاعر) ایک ادیب ہوتا ہے کامیابی اور
ناکامی کے دائروں سے آزاد۔ ادیب ایک نقیب ہوتا ہے،وہ خدا اور بندے کے درمیان یا
یوں کہہ لیجئے کہ فطرت اور مافوق الفطرت کے درمیان ایک پیامبر ہوتا ہے۔ وہ جہانِ
معلوم اور نا معلوم کے مابین ایک کڑی ہوتا ہے۔ وہ حقیقت اور تخیل کے درمیان ایک
ربط ہوتا ہے، ادراک اور تصور کے وسط میں وصل کی لڑی ہوتا ہے۔وہ ہمارے معاشرے کا
ضمیر ہوتا ہے۔ تو کیا نعمان امام ہمارے معاشرے کا ضمیر تھے؟ یہ نکتہ سیر حاصل بحث
چاہتا ہے جس کا حق کسی مختصر مضمون سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک مبسوط، مبرہن
اور مدلل مقالہ کا موضوع ہےنیز یہ تعزیتی نشست اس بات کی متقاضی بھی نہیں لہذا
آئیے ان کے سرمایہ حیات ، ان کی شاعری اور تعین قدر پر بات کرتے ہیں کہ اس طرح ممکن
ہے اوپر اٹھائے گئے کچھ سوالات کے جوابات مل جائیں ۔
مناسب یہ ہوگا کہ پہلے اس سوال سے بحث کی
جائے کہ نعمان امام نے کس نوع کی شاعری کی ہے، اردو کی شعری روایت سے کس قسم کا
استفادہ کیا ہے ؟کس سماجی ماحول اور تہذیبی پس منظر میں ان کی شاعری شروع ہوئی اور
غم جاناں کی کون سی خم دار گلیوں سے گزرتے ہوئے غم دوراں کے بے آب و گیاہ بیابان
میں داخل ہوئی ؟ نعمان امام نے جس دور میں تخیلات کی زلفوں اورلفظوں کے پیچ و خم
کو سنوارنے کا آغاز کیا اس وقت اردو کی غزلیہ شاعری اپنی معنویت، لاادریت،جدیدیت
اور لامقصدیت کی شکست و ریخت کے عمل کوزہ گری سے مہمیز ہوکر نئی جہت،نئے آہنگ، جدیداستعارات،
ذاتی مشاہدات پر مبنی تشبیہات،تجریدی تصورات، لفظی تلازمات، جمالیاتی کیفیت، اثر
آفریں معنویت، صوتی نقش گری، صوری کوزہ گری ، پیکر تراشی اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور غیر
روایتی طرزاحساس سے عبارت ہوچکی تھی جس کا اظہار ۷۰ کے بعد کی شاعری میں بیشتر شعرا کے یہاں جا بجا، عکس در
عکس اور پرت در پرت نظر آتا ہے۔ایک ایسے دور میں جو ادبی نقطہ نظر سے اختلال اور
Chaos سے
بھرا ہوا ہے نیز شاعر ذہنی افلاس اور کنفیوژن کی وجہ سے یا ’’پیشرو‘‘ ثابت کرنے کی
کوشش میں شعوری یا غیر شعوری طور پر زندگی کا ترجمان ہونے کے بجائے ایک ’’خیالی
زندگی‘‘ اپنا لیتا ہے کسی ایک ڈگر کسی ایک پنگھٹ پر بیٹھنا اور شاعری کی بِین
بجانا نقش برآب کو دوام عطا کرنے کے مترادف ہے۔نعمان امام نےاس پر آشوب وقت میں
اپنے اظہارِ خیالات کے لئے ’’نیم وحشی صنف سخن ‘‘کا انتخاب کیا اور کامیاب رہے ۔
ان کی شاعری ان کے ضمیر کی آواز ہے، ان کے مکمل حیات کا عکس ہے۔
یہ بوند بوند لہو کون جی رہا ہے مجھے
یہ کس کی مجھ میں حمایت ہنوز باقی ہے
سخن سخن سنا سب کا تو پھر غزل بولی
کہیں کہیں وہ روایت ہنوز باقی ہے
معنی آفرینی اردو شعریات کی ایک ایسی صفت
ہے جس کا ذکر تنقیدی اشارات میں بکثرت ملتا ہے لیکن خدوخال واضح نہیں کئے گئے ہیں۔
عاشق اور معشوق سے رشتے کی نت نئی جہتیں عشق کے تجربے سے کم اخذکی گئی ہیں اور
معنیٰ آفرینی و کیفیت کی صلاحیت کے زور سے زیادہ نمایاں کی گئی ہیں۔ نعمان امام کی
غزلوں میں معنی آفرینی کی صفت بہت نمایاں تو نہیں لیکن جگہ جگہ ایسے اشعار ضرور مل
جاتے ہیں جن میں کیفیت و معنویت دونوں بھرپور توانائی کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ شعر
دیکھئے۔۔۔۔
کبھی کبھی تو اچانک ہوا ہے یہ محسوس
کہ جیسے تو بھی ملوث مرے گناہ میں ہے
میں تجھ پہ بن کےکسی دن عذاب برسوں گا
کہ تیرا نام مرےنامۂ سیاہ میں ہے
زمانہ منزل مقصود پا چکا ہے امام
ہمارا قافلہ اب تک حدود ِ راہ میں ہے
یہاں معنی آفرینی اور کیفیت دونوں صفات ایک
ساتھ متصف ہیں ۔شعر چشم زدن میں قاری کو ناستلجیائی وجد اور ٹرانس میں لے جاتا ہے
۔۔۔یہ کیفیت ہے۔۔۔۔ اور ساتھ ہی فہم و ادراک کے نئے دروا کرتا ہے یہ اس کی۔۔۔ معنی
آفرینی ہے۔ گناہ سے شاعری مراد ہے یا ناکام حسرتوں کا مقبرہ ۔ ابہامی اشارات کی
تفہیم و تشریح قاری کی صوابدیدپر منحصر ہے۔ شاعر قاری کو سوچنے پر مجبور کررہا ہے
اس لئے وہ ترسیل جذبات میں مکمل کامیاب ہے ۔مقطع میں امام کا التزام و اہتمام شعر کو
مزید تنوع، وسعت اور معنویت عطا کررہا ہے۔۔۔۔ اسی ضمن میں فراقؔ کا یہ شعر بھی
ملاحظہ ہو۔۔۔۔
مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
یا پھر بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان
لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم
دور سے پہچان لیتے ہیں
لہجے کی انفرادیت ، شعریاتی ہیئت ،اسلوب
اور آہنگ کا تلازم،جمالیات کی نئی قدروں کی تلاش، نادر تراکیب و تلمیحات ،تازہ
پیکر سازی ، معنی کی گہرائی و گیرائی اور۔۔۔۔۔۔ اور روایت کی پاسداری، نعمان امام
کی شاعری کو اس عہد کی مانوس آوازوں سےممتاز کرتی ہے ۔ نعمان امام کے کلام کا
بالاستیعاب مطالعہ کیجئے ۔۔۔۔ ان کی شاعری کے شش جہات پہلو نئے آہنگ و فرہنگ کے
ساتھ ہمارے احساس کو منور کریں گے وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہاں وہاں سے کچھ
منتخب اشعار پیش کرنے پر اکتفا کروں گاجو نعمان صاحب کے شعری تنوع اور قدرت ِ اظہار
پر دسترس کی مکمل عکاسی کرتےہیں۔
سرابِ خاک اگر موجِ معتبر ہوتا
زمینِ آب پہ بھی سبزۂ شرر ہوتا
فصیل راہ کی گرتی کبھی تو در ہوتا
اذان صبح کی سنتے تو پھر سفر ہوتا
الزام ہے تجھ پر، مگر اے گردشِ دوراں
ہم تجھ سے بچھڑ کے بھی پریشان بہت ہیں
میں کررہا ہوں مرتب غمِ جہاں کی کتاب
تمھارے نام سے جس کا کہ انتساب بھی ہے
میں اس کی چھاؤں میں محفوظ رہ گذر کی طرح
وہ ریگ زار میں تنہا درخت کی مانند
ہر ایک لمحہ اٹھائے ہے اک صلیب اپنی
ہر ایک سانس کے ہمراہ ہے عذاب سا کچھ
مذکورہ بالا اشعار میں نعمان امام حیاتِ درون
و بیرون کے تلخ تجربوں سے کشید کی ہوئی کیفیات ، تشنہ خواہشی اور گردش دوراں کے
مسائل کے ساتھ غم انگیز گریز اور درد آگین تعلقات اور شعور کی دریافت کو ہم تک ایسے
شعریاتی لہجے میں پہنچایا ہے کہ معنی کی ترسیل بھی ہورہی ہے ، زیاں کا احساس بھی ،
تحریک عمل بھی اور تفریح مذاق لطیف بھی۔’اذان صبح کی سنتے تو پھر سفر کرتے‘۔۔ اس
قدر پرکیف تلمیح کا استعمال اب عنقا ہوتا نظر آرہاہے۔یہ شعر اخترالایمان کی نظم’
مسجد‘ کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملول ماضی و
حال گنہگار نمازی کی طرح اپنے اعمال پر چپکے چپکے رو رہے ہیں۔۔۔۔۔ میں یہ شعر
پڑھتے ہوئے حضرت عمر فاروق ؓکے دور میں چلا جاتا ہوں جب اذان صبح کے بعد بادیہ
نشینوں کاکاروان سحرقیصرو کسریٰ کی قلمرو کی طرف رخت سفر باندھا کرتا تھا۔خیر اب
تو صرف یادیں ہیں اور بات یادوں کی آئی ہے تو ذرا یہ شعر بھی دیکھتے چلئے جو سہل
ممتنع اور امیجری کا حسین امتزاج ہے
اُس مہکتے ہوئے تبسّم میں
کتنی یادوں کا مقبرہ سا تھا
مذکورہ بالا شعر کے پس منظر میں مظفر پور
بہار کے ایک گمنام شاعر ظفر حمیدی کا یہ شعر قابل توجہ ہے ۔
تمہاری یاد کی شبنم کہیں گری ہوگی
ہمارے ہاتھ میں بھیگا ہوا سا کچھ تو ہے
مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ ہوں جس میں نعمان
امام کی زندگی کے کئی تشنہ کام گوشے، رعشہ زدہ پرانی اور نئی قدروں کی کشمکش، عصری
مسائل کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر ایک نئی بازگشت سناتے ہیں۔
میں تھک کے بیٹھ گیا دشتِ نامرادی میں
مجھے بھی زیست کی اک سعیِ کامیاب سمجھ
قطروں کی آگ دیکھ سمندر کی موج میں
گمنام زخم نام وروں میں اتر کے دیکھ
خوش منظری کا لطف کسی خوش نظر سے پوچھ
مرگِ جمال، دیدہ وروں میں اتر کے دیکھ
ہم سے خفا ہوئے تو منانے نہ آئیں گے
ہم پیڑ ہیں پھلوں کو اٹھانے نہ آئیں گے
خلاف ہوکے بھی اس سے کہاں پہ جاؤگے
ندی ندی میں یہاں کی بہاؤ اُس کا ہے
وقت جیسے کسی آندھی کا شجر ہو کوئی
زندگی جیسے دیا کوئی جلانا چاہے
یہی تو وحشتِ آوارگی نہیں اچھی
ہوا تُو خود کو ذرا، اپنے اختیار میں رکھ
یوں خواب خواب چشمِ طلب میں سما گئے
سب امتیازِ دشت و سمندر مٹا گئے
طبع بشر جمود گوارہ نہ کر سکی
ساحل سے ہم پلٹ کے سمندر میں آ گئے
دانشوری جو دسترسِ بوم و خر میں ہے
ہر کم ہنر بھی اب تو کمالِ ہنر میں ہے
کتنے دنوں میں دھوئے گا اے دستِ آفتاب
تیرہ شبی کا رنگ جو نورِسحر میں ہے
اگر محولہ بالا اشعار غزل کے جدید رجحانات
اور عصری آگہی کی ترجمانی نہیں کرتے ہیں تو پھر کیا ہیں؟
اس قبیل کے اشعار دیگر معاصر شعرا کے یہاں
مل سکتے ہیں، بدرجہ اتم،زیادہ بھرپور، نئی ہیئت اور مکملیت کے ساتھ لیکن یہ کہہ کر
ہم شاعر کی سعیٔ سخن وری کو یکلخت جھٹک نہیں سکتے کہ اس نے فرسودہ خیال یا بار بار
باندھے گئے مضامین سے اپنے دامنِ شعریات کو مملوکیا ہے۔۔۔۔ادب کا سرچشمہ تو ایک ہے
خیر وشر اورحق و باطل کی جنگ اور ان آفاقی اقدار کے باہم رزم و جدل اورگریز و
کشمکش کے روزن سے چھٹ چھٹ کرچھن چھن کر نکلنے والی امثبت اقدار اور ہمہ گیر
صداقتوں کا فروغ ، تفہیم و تشریح اور تطبیق و تنفیذ شاعر ی کا آفاقی وصف اورمنصب
ہے۔ شاعر کی فکری اساس جن اینٹوں پر استوار ہے وہ خشت ِفکر لازوال ،ہمہ گیر اور
آفاقی ہے۔ خدا کی طرف سے عطا کئے گئے اس سماوی تحفے کے اظہار کے لئے اسالیب، رموز
و علائم، تکنیک مختلف ہوسکتی ہیں لیکن فکری وحدت تو بہر حال وہی رہے گی۔۔۔ سر فلپ
سڈنی نے شاعر کا مقام و مرتبہ فلسفی اور مورخ سے بڑا قرار دیا ہے کہ وہ تاریخ اور
فلسفہ کے مابین ثالث اور حکم ہوتا ہے۔ انگریزی کے مشہور ادیب اور نقاد ٹی ایس
ایلیٹ نے ایسے شاعر کو جس کے پاس ویژن نہیں ہے اور جو اپنے عین منصب سے آگاہ نہیں
ہے خبطی، جنونی اور پاگل کہا ہے۔نعمان امام نہ یہ کہ صرف ویژن رکھتے ہیں بلکہ اپنے
منصب شاعری سے بھی واقف ہیں ۔ ان کے کلام میں تہہ داری، اورفکری بُنت کی ایک اور
مثال ملاحظہ ہو:
میں بھٹکتی امتوں کا ایک درد مشترک
ہرزمانے میں رہا پیغمبروں کے ساتھ مَیں
یہاں ’’ساتھ مَیں‘‘ کا کوئی جواب نہیں۔شاعری کے فن اور محاسن سے واقف نکتہ رسوں سے یہ بھید پوشیدہ نہیں اور خاص طور سے ذکر
بالا تلمیح کو جب اس اساطیری اور تہذیبی تناظر میں دیکھا جائے کہ حضرت لقمان حکیمؑ
کو ۴۰ پیمبروں کی صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اور
اسی شعر میں بھٹکتی امتوں سے اگر شعرا ءحضرات مراد لئے جائیں تو یہ درد مشترک بیان
کی بیکراں حدوں سے باہر نکل جاتا ہے۔
طلسمِ شب نہ ٹوٹا تھا ابھی دل کے دریچوں پر
مری خوش فہمیوں نے لاکے تعبیر سحر رکھ دی
بگولوں کی طرح اب اُڑ رہے ہیں دشتِ امکاں
میں
یہ کس تعمیر کی مٹی کسی نے دوش پر رکھ دی
ممتاز حسین’’ تنقید کے چند بنیادی مسائل
‘‘ میں
رقمطراز ہیں ’’نقاد وہ ہے جو اپنے آپ کونہ تو زبان میں کھوتا ہےاور نہ ادیب و شاعر
کے کلام میں۔ اس کی حیثیت ادب میں اگر ایک طرف قاری اورادیب کے درمیان ترجمان کی
ہے تووسری طرف وہ ان دونوں سے آزاد بھی ہے۔ وہ ادب اور زندگی دونوں کی ہی رہنمائی
کرتا ہے‘‘۔ بات تو نہایت معقول ہے لیکن اس وقت ہمارا نقاد صرف اپنے حواریوں اور
مواریوں کی رہنمائی میں لگا ہے ۔ ۔۔یہ ظلم ہے کہ ایک آدمی زندگی بھر دردر کی
ٹھوکریں کھاکر ،دنیا بھر کی مصیبتیں جھیل کر اپنے درون تخیلات اور وجدانی کیفیات
ہم تک پہنچاتا ہے اور ہم اسے یکلخت مسترد کردیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ میاں۔۔۔۔
غالب نے یہ کہا ہے۔۔۔۔۔ اقبال نے یہ کہا ہے۔۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور اس بے چارے پر
’وغیرہ‘ کا دبیز کفن ڈال دیا جاتا ہے جس سے وہ باہر نہیں نکل
پاتا کیونکہ کفن کا پردہ چاک کرنے کے لئے اس کے پاس نہ تو وہ دم خم ہوتا ہے اور نہ
ہی وہ وسائل اور اس طرح وہ گمنام موت مرجاتا ہے۔ یہ ہماری مجموعی معاشرتی بے حسی
کا اظہار ہے ۔ نعمان امام صاحب ایسے درجنوں شاعر ممبئی میں گمنامی کا دبیز کفن
اوڑھے دارآخرت کو سدھار گئے ۔ اب گریباں چاک کرنے سے کچھ نہیں ہوتا اب ادیب کا
وجود نقادوں کی مرہون منت ہے ۔ قاری کو تو ادیب بہت پہلے مار چکا ہے اور ادیب کو
نقاد ما ر رہا ہے۔ یہ بات بھلا شاعروں سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ آج کا
شاعر۔۔۔۔۔۔ کس طرح روز حیات و ممات کی رزم گاہ سے ۔۔۔۔۔۔ کبھی بچ کر، کبھی زخم
خوردہ ہوکر اور ۔۔۔۔ اورکبھی اپنی شوریدہ سری کے بخیے ادھیڑتا اور سنبھالتا ہوا
گھر لوٹتا ہے۔ نعمان امام نے اس کا اعتراف اپنی ایک ڈائری میں خود کیا ہے۔ ’’
میرے
ساتھ نقادوں اور تذکرہ نویسوں نے دیانت داری سے کام نہیں لیا ہے اور مجرمانہ غیر
ذمہ داری اور سطحیت کا ثبوت دیا ہے میں جس ادبی حیثت اور مقام کا مستحق تھا اس کے
اعتراف میں جاہلانہ خصلت سے کا م لیا گیا ۔ جبکہ ہم عصر شاعروں میں میری تخلیقات ،
خدمات اور اضافے ( Contribution) اگر سب سے زیادہ نہیں ہیں تو کسی سے کم بھی
نہیں ہیں اور میری ادبی حیثیت مجھ سے بہت پست درجہ کے شاعروں میں بانٹ دی گئی
ہے۔‘‘۔۔ آگے وہ مزید لکھتے ہیں ’’ تاہم اس سلسلے میں
حقیقت یہ ہے کہ میرے ساتھ نقادوں اور تاریخ نویسوں کا رویہ کتنا بھی معاندانہ رہا
ہو کچھ میں نے بھی اپنی بے نیازی اور انا کا تسمہ لگا ہوا نہ چھوڑا۔ ادبی دنیا میں
مناسب مقام اور جائز شہرت کے لئے بھی پروپیگنڈہ مشینری کی ضرورت ہوتی ہے وہ مشینری
کبھی میرے پاس نہیں رہی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب
میں بھی گروپ بندی ، سمجھوتہ بازی اور سگ درحضور بہ از برادر دُو ر ۔۔۔ کا دور
شروع ہوچکا ہے۔‘‘ شاعر کم ظر ف ہوتا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ کم ظرف ہونا شاعری کے
تقاضوں میں سے ایک ہے یا نہیں لیکن میں نے اپنی زندگی میں کسی بھی اردو ادیب اور
شاعر کو اعلیٰ ظرف نہیں پایا۔ کم ظرف کے ساتھ ساتھ اس کو تضادات کا مجموعہ پایا
ہے۔ نامراد شاعر اور بھی بڑا کم ظر ف ہوتا ہے اور غالبا یہی اس کی محرومی کی اصل
وجہ بھی ہوتی ہے اور نقاد کم ظرفی کا خالق ، منبع و مخرج ہوتا ہے اور اگر اتفاق سے
وہ نقاد ناکام شاعر بھی رہا ہے تو ؟؟؟ آپ احباب خود اندازہ لگالیجئے۔ نقاد خود کو
ماورائی دنیا کا فرستادہ نقیب اور صدائے ہاتف خیال کرتا ہے اور فن پارہ پر اس کی
رائے خدائی رائے ہوتی ہے۔اسی لئے وہ شاعر کو پیمبر یا فرشتے کے طور پر دیکھنے کا عادی
ہوتا ہے کہ اسے یہی منصب دے کر بھیجا گیا ہے۔ نعمان امام، ارتضیٰ نشاط، عبداللہ
کمال، نظام الدین نظام، عبدا لاحد ساز، کلیم حیدر شرر اور شفیق عباس جیسے دیگر
محترم شعرا کی گمنامی کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں بلکہ یہ نامور نقادان و سخن فروشگان ہیں
جو ’’ ہاتف نے کہا گنج معانی ہے تہہ خاک‘‘۔۔۔۔۔۔ کو سن نہیں سکے اور تہہ خاک گنج
معانی کو نکال نہیں سکے۔ جدید شعرا کےکلام کو اگر کوئی چیز تادیر زندہ رکھ سکتی ہے
تو وہ صرف فکر نہیں بلکہ فکری وسعت کے ساتھ نئے اسالیب،ہیئت، رموز و علائم اور
استعاروں کی تلاش نیز تمثیل نگاری اور پیکر تراشی کے نئے افق اور جہت کی دریافت
بھی ہے ۔ جہاں تک نعمان امام کی شاعری کے تعین قدر کی بات ہے تو وہ اپنی جہت میں
اور تلاش اسلوب ورمزیت میں کامیاب ہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فلسفٔہ شاعری
کی بنیادی فکر۔۔۔ خیر وشر کے مابین رزم ہے۔۔۔۔ یہی وہ آفاقی اقدار ہیں جو ہومر سے
لے کر ہوریس تک، گوئٹےسےلے کراسکاچل تک اور حافظ سے لے کر غالب تک تمام بڑے شعرا کے یہاں پائی جاتی ہیں تنوع اور بھرپورتوانائی کےساتھ، تازگی اورلطافت کے
ساتھ ۔معاصر غزل میں فکری وسعت عہد رفتہ کے تاریخی،تہذیبی اور ادبی تسلسل کی
توسیع میں مضمرہےلیکن یہ توسیع متعین کردہ ’’نقش غیر‘‘پر نہیں بلکہ ’’نقش ِ
خود ‘‘کے ساتھ ہونی چاہئے۔
Wednesday, 9 November 2011
انا اور سول سوسائٹی:دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے
سول سوسائٹی ’کو اک حرفِ دل آویز بہت ہے‘
محمد ہاشم خان
’’پُرامن ہندوستان‘‘ میں دن ہوگئے کسی کو مُطلق’ سِوِل سوسائٹی‘ کی دہائی دیتے ہوئے نہیں سنا تھا۔ ’پرُامن ہندوستان‘ میں رشوت اور بدعُنوانی جیسے’قابلِ قدر‘ مسائل کی تو بات ہی چھوڑیئے انسانی حقوق کی صریح بےحرمتی،ماورائے عدالت قتل،فرضی پولس انکاؤنٹر،فوجی جَبر عصمت دری ،زندگی اور موت سے جڑے سنگین ترین مسائل پربھی سِوِل سوسائٹی کومدعو کرنے والےخال خال ہی ،بھولے بھٹکے ،کبھی کبھارسنائی دیئے اور۔۔۔۔اورچارسُوترقی کے اس شورشرابے میں’’کون سنتا ہے بھلا رام کہانی میری۔۔۔۔اور پھر وہ بھی زبانی میری‘‘ کی طرح وہ بھی رام کہانی بن گئےکیونکہ کوئی ایک جامع سول سوسائٹی جس کی کوئی ایک مَرئی شکل ،شناخت اورکردارہوبظاہرہمارےتاریخی شعورمیںوجود نہیں رکھتی۔ہندوستان میں سول سوسائٹی سیاسی جماعتوںاور ان کے بغل بچوں،مذہبی تنظیموں اورسماجی ومعاشی طبقات کے اعتبار سے بٹی ہوئی ہے۔ فرقہ پرستوں کی اپنی الگ سول سوسائٹی ہےاوربشر دوستوں کی الگ ۔۔۔۔ مردوں کی الگ،خواتین کی الگ اورزَنخوں اور ہجڑوں کی بھی ایک الگ سول سوسائٹی ہے۔
عموماًمُتمدِّن سماج( سول سوسائٹی) جمہوری نظام،آئینی ادارے وغیرہ جیسے الفاظ اور اضافی اصطلاحات کی بازگشت ’پرامن ہندوستان‘ میں کم اوراُس سے باہر’پُرفساد‘ شورش اور حاشیہ زدہ ریاستوںمثلاً ناگالینڈ،آسام، منی پوراور جموں وکشمیروغیرہ میں زیادہ سنائی دیتے ہیںاور مذکورہ بالاریاستوں میں آئے دن نہ یہ کہ حال ہی میںہندوستان میںاناہزارےکی’حل مشکلات ٹیم‘ کی دریافت یاپیداکردہ غیرمرَئی،غیرفَعّال اورمجہولِ مطلق سول سوسائٹی کودرخشاںجمہوری مظالم کے کریہہ ترین مناظردیکھنے کی صَلائے عام دی جاتی ہےبلکہ ’ہم ہندوستانیوں‘ کےنیم خوابیدہ ’نصف سیاہ‘ ضمیرکوبھی جھنجھوڑنے کی سعی ناکام کی جاتی ہے،ہم سے پوچھا جاتا ہے ’آپ کی سول سوسائٹی کیا کررہی ہے ؟کیا اس کے پاس آنکھ ،کان اور دل نہیں ہے؟ اورپھر ہم چکمکاکراپنی سول سوسائٹی کے بارے میںبے یقینی اور بے خیالی میںحیرت واستعجاب سے خود سے پوچھنے لگتے ہیں ہمارے یہاں سول سوسائٹی ہے ؟؟؟ ہے!!!!ہے تو پھر کیسی ہے!!!آنکھ کان ہیں یا پھر لولی لنگڑی ہے!کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نتیجے پرپہونچتے ہیں کہ ہمارے یہاں سول سوسائٹی ہے،آنکھ کان ہیں،اچھی بھلی صحت مند ہے بس دِل نہیں ہے بے ِحس ہے۔۔۔۔فریکچرڈ کنفیوزڈ سوسائٹی! جس کی فعالیت ،اہمیت ،ریلیونس اورمجہولیت پرشورش زدہ ریاستوں میں آئے دن دانشورانہ بحث ہوتی ہے اور کیا بحث ہوتی ہوگی اس کا اندازہ آپ علامہ اقبال کی زبان میں لگاسکتے ہیں ؎ بھروسہ کرنہیں سکتے ’غلاموں‘ کی بصیرت پر۔۔۔اورچونکہ مذکورہ بالاریاستوں کے نوجوانوں کاشمار’ہم ہندوستانی مردانِ حُر‘ آزادمردوں میں نہیں کرتے اس لئے ان کی فکر اوربصیرت کی کیا حیثیت! خیر اس تذکرہ ’’غیر ‘‘پر غالبؔ برسبیل شکایت گلہ کر رہے ہیں ؎ ہے مجھ کو تجھ سے تذکرہ غیر کا گلہ۔۔۔۔ہرچند برسبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو۔
مندرجہ بالاسطورمیں سول سوسائٹی کا ذکر عبث جوکہ ناگزیرتھامحض اس لئے ہوا ہے کہ رشوت کے خلاف آفاقی جنگی مہم کے علمبردارساتویں ککشا(جماعت)پاس کشن بابو راؤہزارے عرف انّا اور ان کی ٹیم نے، جس میں دوبھوشنان( شانتی اور پرشانت بھوشن) شامل ہیں،جن لوک پال بل پرمرکزی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ سلسلہ وار مذاکرات کے ’یکطرفہ‘ ناکام ہونے پر سرکارکو یرغمال بنانے کی کوشش میں زبانی جنگ کے دوران سول سوسائٹی کومتحرک کرکے ’راستے پرلانے‘ کی دھمکی دی ہے۔انَّاکے ایماندار اور راست باز ہونے پر راقم الحروف کوکوئی شبہہ نہیں ہے لیکن ان کے کچھ ہوش ربا بیانات اورخمارآلود اقدامات جسےترقی پذیرشہری مزاج کےساتھ دہقانی بدمذاقی قراردیاجاسکتا ہے ان کی نیت کو دائرہ تشکیک میںڈال رہے ہیں۔بےنقاب بابارام دیو کی حمایت میںبناسوچے سمجھے حکومت کےساتھ ایک طے شدہ میٹنگ کا بائیکاٹ کرنا، اور وہ بھی ایک ایسے واقعہ کے لئے جس کے بارے میں اب تک بھی کوئی بات صاف نہیں ہو پائی ہے کہ وہ کوئی تحریک تھی یا ’یوگا شبیر‘ اور اس کے بعد انا کا یک روزہ انشن اور وہ بھی گاندھی سمادھی پرنیز یہ بیان کہ تین دن اور ’انشن‘ پر بیٹھتے تو سرکار گرجاتی،اگر سرکارنے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے تو سول وار(خانہ جنگی) شروع ہوجائے گا اور وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے اور یہ کہ بل پر ریفرنڈم کرایا جائے اور یہ کہ ۱۶اگست کو وہ پھر انشن پربیٹھیں گے،ایک ایسےآدمی کی تصویرپیش کررہے ہیں جسے ففٹین منٹس فیم(۱۵منٹ کی شہرت)کچھ زیادہ ہی راس آگئی ہےاوروہ اب ہروقت اپنے ’حواریوں‘کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر نظرآنا چاہتا ہے۔کم ازکم یہ اقدامات اور بیانات اس شخص کی تصویر توبالکل نہیں پیش کررہے ہیں جسے ہم کچھ ماہ قبل اناہزارےکےنام سے جانتےتھے۔یہاں پر انّا کو غلط فہمی سے نکلنے اور کچھ باتیں ذہن نشین کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اول تو یہ کہ وہ کوئی جے پرکاش نارائن یا مہاتما گاندھی نہیں ہیں،انشن پر بیٹھنے سے حکومت نہیں گرتی،ممکن ہےبرطانوی راج میں ستیہ گرہ کاکچھ اثر انگریز حکومت پر پڑا ہو لیکن اب عدم تشدد کا تصور ایک فیشن ایبل تصور سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتا،بھوک ہڑتال سےآدمی کمزور ہوتا ہے حکومت نہیںاور بقول عرفان عثمانی’’یہاں جب لوگ(نکسلائٹ وغیرہ)اپنی جان دے کر بھی اپنی بات نہیں منواپاتے ہیں تو انشن اور بھوک ہڑتال سے بھلا کیا ہوناہے‘‘۔علاوہ ازیں انا کوبابارام دیو کے حشر سے کچھ سیکھنے اور اپنی اس خوش فہمی سے کہ ان کے انشن سے سول وار شروع ہوسکتا ہے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ساتویں درجہ پاس اس ایماندار کاشت کار سے یہ امید کرنا کہ وہ سول سوسائٹی اور سول وار کی پیچیدگی سے واقف ہوگا اپنی عقل سلیم اور فہم وفراست کے ساتھ جبر وزیادتی ہے۔اس بیان کوانا کی جاہلانہ معصومیت قرار دے سکتے ہیں کہ وہ پڑھے لکھے آدمی نہیں ہیںلیکن ایک ۷۴ سال کا معمرشخص اتنا بھی معصوم نہیں ہوسکتا جتنا کہ بتانے اور بنانے کی کوشش کی جارہی ہےاور سول سوسائٹی اور سول وار کو سمجھنے کے لئے معصومیت کی نہیں دانشورانہ شعور کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بلاشبہہ انا کے پاس نہیں ہے۔ انّا کو یہ بات معلوم ہونی چاہیئے کہ ہندوستان میں سول وار اُن جنگ زدہ ریاستوں میں شروع نہیں ہواجہاں ہندوستانی فوج کے بوٹوں کی بھیانک چاپ پچھلے پچاس سال سے سنائی دے رہی ہے اور پرامن ہندوستان کی تو بات ہی کیا کریں۔ بابری مسجد کی شہادت،۱۹۹۳ کے بم دھماکے اور گجرات فساد جیسے واقعات ہمارے ملک کی درخشاں تاریخ اور جمہوریت پر ایک بدنماداغ ضرور ہیں لیکن ’یہ داغ اچھے ہیں‘۔
انا ہزارے ٹیم نے ایک اور انتہائی احمقانہ تجویز سامنے رکھی ہےجسے سن کربے ساختہ غالبؔ یاد آجاتے ہیں ؎ حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں۔ انّا اور ان کی روشن دماغ ٹیم کی ذہنی بے اعتدالی کی یہ روش اگر برقرار رہی تو بہت ممکن ہے کہ کوئی ’ نوحہ گر‘ بھی ساتھ رکھنا پڑجائے۔ہزارےٹیم کے اہم رکن ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کہتے ہیں کہ جن لوک پال بل پر عوام سے ریفرنڈم کرایا جائے اور انہوں نے اپنی تجویز کی تائید میں یہ دلیل بھی دی ہے کہ سوئزرلینڈمیں آئے دن ریفرنڈم ہوتے رہتے ہیںتو یہاں کیوں نہیں۔انا تو خیر زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اسلئے ان کی زبان اگر پھسل جاتی ہے یا اگر وہ کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری ڈی راجہ کو اے راجہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ڈی راجہ جیسے سیاستداں ملک کو لوٹ رہے ہیں ‘‘ تووہ قابل عفوودرگزرہیں لیکن پرشانت بھوشن؟ یہ توخود سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور سپریم کورٹ کے سینئروکیل اور سابق مرکزی وزیر قانون شانتی بھوشن کے فرزند ارجمند ہیں،ان کو کیا کہیں۔اب اگر پرشانت بھوشن کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت پڑے کہ صاحب ہندوستان سوئزرلینڈ نہیں ہے،یہاں ریفرنڈم نہیں کرایا جاسکتا اورپھر اگرانھیں یہ یاد دلایا جائے کہ تقسیم وطن کے وقت ریفرنڈم نہیں کرایا گیا تھا(صرف محمد علی جناح اور ان کے چنددوستوں نےمسلمانوں کے لئے الگ ملک کا مطالبہ کیا اور اسے سارے مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا اوربیل بکری کی طرح ہانک دیا گیا) اور ہاںکشمیر میں ریفرنڈم کراناباقی ہےتو عوام خود ہی یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جب ہزارےٹیم کےہراول دستہ میں شامل جوان ذہنی طور پر اتنےمفلس اورمسکین ہیں تو ان کے طفیلی اورغیر متوازن دماغ سے جنم لینے والابچہ کتناتوانا،صحت مند اور عقلمند ہوگا۔اروند کیجری وال ٹھیک کہتا ہے کہ یہ لوک پال بل نہیں بلکہ ’جوک پال‘ بل ہے لیکن انہیں بھی یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اسے’ جوک پال‘ حکومت نے نہیں بلکہ ٹیم ہزارے نے بنایا ہےاور واقعتاً یہ’ جوک پال‘ بل ہی ہےاور ہم اسے’ جوک پال‘ ہی سمجھ رہے ہیں۔ٹیم ہزارے نے جن لوک پال بل کاجومسودہ تیار کیا ہے اور جس کی ایک کاپی راقم الحروف کےپاس محفوظ ہے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد بغیر کسی الجھن اور کنفیوژن کےاگرکسی ایک نتیجہ پر پہونچا جاسکتا ہے تووہ یہ کہ لوک پال( ٹیم انا کے مداح اسے’جوک پال‘ پڑھ سکتے ہیں) عہدہ کے لئےملک میں سردست انَّا سے زیادہ کوئی معقول شخص نہیں۔دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے۔انا اپنی گل کاری وحشت کا صلہ شائد حرف دل آویز کی صورت چاہتے ہیں۔
آیئے اب جن لوک پال بل پر بحث کرلیتے ہیں۔اس بل کو Magnify کیا جارہا ہے،اور اخور بخور کے ساتھ محترم وزیر اعظم کو بھی بِل کے دائرہ میں لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔یہ مطالبہ صرف ایک ہی چیز ثابت کرتا ہے اور وہ یہ کہ ہم اخلاقی اورذہنی طور پر بالکل ننگے اور دیوالیہ ہوچکے ہیں،ہم اعتماد کھوچکے ہیں،نہ اپنے پر بھروسہ ہے اور نہ دوسرے پر اور ظاہر سی بات ہے آیئنہ آپ کی شکل جیسی رہے گی ویسا ہی دکھائے گا ۔ جب ہم وزیر اعظم بہ حیثیت ایک ادارہ پر بھروسہ نہیں کرسکتے تو پھر انّا اوران کےحواریوں پر کیوں؟جن لوک پال بل کے چئرمین پر کیوں؟اور ایک دوافراد کی بات ہی چھوڑیئے، اس پورے مجوزہ ادارے پر ہی کیوںبھروسہ کریں جس کا نام جن لوک پال ہے؟۔جب ہمیں کسی پر بھروسہ ہی نہیں ہےتو پھر اس ادارے پر کیوں؟ کیا اس ادارے کے افراد اس معاشرے سے نہیں آرہے ہیں جس کے بیشتر افراد کرپٹ ہیں اور جو باقی ہیں وہ مواقع کی تلاش میں ہیں،وہ ایماندار صرف اس لئے بچے ہوئے ہیں کہ انہیں بے ایمانی کرنے کا موقع نہیں ملا ۔ٹیم ہزارے جن لوک پال کو جس طور نافذ کرنے کا بچکانہ منصوبہ رکھتی ہےاس کے لئے ۳۵ ہزار افراد پر مشتمل عملہ کی ضرورت ہے،اب یہ ۳۵ ہزار افراد یا تو موجود ہ سرکاری ڈھانچے سے لائے جائیں یا پھر نئی بھرتی اور تقرری کے ذریعہ۔بہرحال وہ جہاں سے بھی آئیں گے وہ ہمارے ’کرپٹ ‘ معاشرے کے ہی رکن ہوں گے منزل من اللہ نہیں ۔اور یہ ۳۵ ہزار افراد؟ ان کی ایمانداری کی ضمانت کون لے گا؟ اور اگر ان کا سربراہ لوک پال کرپٹ نکلا تو؟ بقول کپل سبل ’ہزارے کہتے ہیں وہ ہم سمجھ لیں گے۔‘
ملک،قوم اور معاشرہ کسی ایک آدمی سے وجود میں نہیں آتا،ان کے رخ اور خدوخال کا تعین کوئی ایک آدمی نہیں کرتا،یہ ایک تاریخی اور تدریجی عمل ہوتا ہے۔آج ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہ تعمیروتخریب کے ایک طویل مرحلے سے گزرتا ہوا ہم تک پہونچا ہےاور تعمیروتخریب کے اس تاریخی عمل میں ہمارا کوئی رول نہیں رہاسوائے اس کے کہ پہلے ہمارے باپ دادا اس معاشرے میں سانس لیتے تھے اور اب ہم لے رہے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اس معاشرے کی تشکیل ہم نے نہیں کی ہے یہ ہمیں اچھا برا جو بھی سہی تشکیل شدہ ملا ہے۔اب اگر اس معاشرے کے ۹۰ فیصد افراد کرپٹ ہیں تو یہ کوئی قابل فخر بات نہیں بلکہ یہ المیہ کبریٰ ہے اورالمیہ کا حل قانون نہیں ذاتی احتساب اور اصلاح ہےجوفرد واحد سے شروع ہوتا ہوا بتدریج اجتماعی شکل اختیار کرتا ہے۔قانون سے جرم نہیں رکتا،قانون جرم کی ایک پناہ گاہ ہےجہاں جرم وقت ضرورت قانون کے بسترکمخواب پرآرام فرماتا رہتا ہے۔
(نوٹ)انَّا سے ایک اپیل: ایروم شرمیلا کی حمایت میں بھی ایک دن انشن پر بیٹھ جایئے،ایروم کو شائد آپ نہ جانتے ہوں،اپنے حواریوں سے یا اپنی سول سوسائٹی سے پوچھ لیجئے گا وہ ضرور جانتے ہوں گے۔
سرخی مجروح سلطانپوری کے اس شعر سے ماخوذ ہے ؎ یارو مری گلکاریٔ وحشت کا صلہ کیا۔۔۔دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے
انا ہزارے،میڈیا اور برانڈ انا
اناہزارے،میڈیا اور برانڈ انا
لوک پال تمام مسئلوں کاحل یا فتنوں کا نیا مرکز؟
محمد ہاشم خان
دن بہ دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں گرانی،روز بروز بڑھتی مہنگائی،غریبی اور بے روزگاری،کسانوں کی بھکمری، خودکشی ،خودسوزی اور شورش زدگی ،خواتین کی مفلسی، طفل کشی اور بچہ مزدوری، ’پُرامن ہندوستان‘ کی’پُرفتن‘ ریاستوں میں سرکاری ،فوجی اور ادارہ جاتی استحصالی عدوان ومظالم،احساس عدم تحفط،بے بسی اور بے گانگی،عوام میں مستقل بڑھتی بے چینی،اضطراب اور فکرمندی،مخصوص مذہبی،سماجی اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے فکری،علمی ،قلمی اور ثقافتی دہشت گردی نیز کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک ہمارے اِس ذہنی اور جمہوری طور پر جامدناہموارا،غیر بالغ اورنرگس ِبیمارمعاشرے میں رونما ہونے والے چھوٹے بڑے تمام مسائل کو صرف ایک مسئلے نے پس پشت کردیا ہےاور وہ ہے انا ہزارے کا مسئلہ۔ ایک ایسا مسئلہ جو جاہل ونیم جا ہل، ناخواندہ ونیم خواندہ ،شریرومعصوم عوام،بےضرر ، بےکار اور بے فیض نوجوانوں، بے چہرہ ،بے ننگ اور بے جان ہجوم کو تمام مسئلوں کا حل ’حل مشکلات ‘ نظر آرہا ہے۔غریبی،مہنگائی اور بے روزگاری سے جوجھ رہے ’بے چاروں‘ کے لئے قحط الرجال کے اس دور میں ایک ارب سے زائد آبادی والے اس ملک عزیز میں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایک دو نہیں ہزاروں انا ہزارے ہوتے لیکن سوئے قسمت اور حیف صد حیف کہ صرف ایک ہی انَّا ہزارے ہیں اور’ عاشق (کرن بیدی ،اروند کیجری وال،پرشانت بھوشن)کا گریباں‘ ہیں(جودوسروں کو پنپ کر اپنے جیسا نہیںہونے دیتے۔۔۔بالکل سوکھے برگد کی طرح)۔ وہی ’مشکل کشا اورمستجاب الدعوٰۃ‘ ہیں لہٰذا بائی ڈیفالٹ اب وہی منبع وہی ملجا ،وہی ماویٰ وہی مخرج،وہی محور وہی مرکزٹھہرے،بس اب وہی اس ملک کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔وہی سادہ لوح،کورچشم اوربےزبان عوام کو قوت گویائی عطاکرسکتے ہیں اور وہی بدبختوں،ناہنجاروں اورروسیاہوں کا نصیبہ سنوار سکتے ہیںکیونکہ وہ ایک ایسے مسئلے کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں(جس کے بغیر وہ خود کھڑا نہیں ہوسکتے تھے) جو ملک کو نراج،بدامنی، اورتباہی کےآتش فشاں دہانے کی طرف لے جارہاہے۔۔۔ایک ایسا مسئلہ جس پر چائے سے زیادہ کیتلی گرم محاورے کو کما حقہ سچ ثابت کرنے والے ہمارے سوشل کارپوریٹ میڈیا کے مطابق پورا ملک انا کے ساتھ ہے،اب یہاں یہ سوال پوچھنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں بچتی کہ جب پورا ملک انا کے ساتھ ہے ،ہندوستان انا ہے اورانا ہی ہندوستان ہے تو پھر کرپٹ کون ہے،بدعنوان کون ہے،بے ایمان کون ہے؟ کیاا نا کی حمایت کرنے والا ’پورا ملک ‘کرپٹ بے ایمان اوربدعنوان ہے؟
تقریباً گزشتہ ایک ماہ سے وطن عزیز کےچھوٹے بڑے،اخور بخور،اچھے برے ’جائزوناجائز‘ایمانداروبےایمان مقامی،ریاستی اور قومی اخباروں اور ٹی وی چینلوں میں ایک ہی چہرہ،ایک ہی خبر ۔۔۔مواد میں ہلکی پھلکی تبدیلیوں کے ساتھ۔۔اور ایک ہی آواز ( وقتاً فوقتاً ذائقہ زبان میں تبدیلی لانےکے ساتھ) شاہ سرخی بنتی آرہی ہےاور کیوں نہ بنے کہ بالآخر ’یہ دوسری جدوجہد آزادی ہے‘ اور انا کے چند ذہنی مفلوج جنونیوں کے مطابق یہ’ دوسری تحریک آزادی ‘بابائے قوم مہاتماگاندھی کی اصل تحریک آزادی سے زیادہ بڑی اور اہم ہے۔میڈیا نے حسب معمول اور حسب توقع اپنے سلاٹس کو عوامی جذبات کی لہروں،موجوں اور دھاروں پر کارپوریٹ کمپنیوں کے اشتہارات منہ مانگے داموں میں فروخت کرنے کے لئےجو نہایت منفی اور معصوم ذہنوں کوتباہ کرنے والی رپورٹننگ کی ہے وہ قابل نفریں ہے۔میڈیا نے معصوم نوجوانوں اور سادہ لوح عوام کو یہ قائل اورباور کرانے نیز اس گمان میں مبتلاء کرنے کی کوشش کی کہ انا کی انسداد بدعنوانی مہم میں وہ انا اور انا کی حمایت کرنے والے ’پورےملک‘ کے ساتھ ہےاور اس طرح میڈیا نے حسب گمان ایک اور بدعنوانی کی۔عوام کے جذبات کو استحصال کرنے کی بدعنوانی،جذباتی موجوں کے سہارے اپنے مفاد کی نیّا پار کرنے کی بدعنوانی اور اس بھرم میں مبتلاء کرنے کی بدعنوانی کہ وہ بدعنوانی کے خلاف ہے۔یہ میڈیا کی طغیانی ہے صریح طغیانی اورانا کے لوک پال بل میںمیڈیاکی اس اخلاقی بدعنوانی کی نہ تو نکیر کی گئی ہے اور نہ ہی کسی سطح پر سرزنش اور جہاں تک میڈیا کی اخلاقیات کی بات ہے تو وہ جارج برناڈ شا کے مشہور ڈرامے پگ مے لیئن (Pygmalion) کے ایک کردار کے اِس سوال کی ترجمانی کرتا ہے ’’کیا تمہارے پاس اخلاقیات (مورَیلٹی) نام کی کوئی چیز نہیں ہے ؟ ‘‘ تو اسے جواب ملتا ہے ’’سوری! میں اسے افورڈ نہیں کرسکتا‘‘۔اگر میڈیا سے اس وقت یہی سوال پوچھ لیا جائے تو یقیناً اُس کا بھی یہی جواب ہوگا’’کیا؟؟؟؟ اخلاقیات؟؟؟؟اماں تم کس دنیا میں رہتے ہو؟؟؟؟ یہ ہم افورڈ نہیں کرسکتے‘‘ اور واقعتاً یہ بہت بڑا سچ ہے کہ میڈیا میں چند معدودے اداروں کو چھوڑ کرکوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جوانٹنٹ اور کنٹنٹ (نیت اورمواد) کے معاملے میں صحافت کے اخلاقی فرائض کو پورا کرتے ہوںاور اگرلوک پال بل کے مقصد عظیم نیز انا کی ناقابل تسخیرہمالیائی کسوٹی پر جانچنے کی کوشش کریں تو کوئی بھی ادارہ پاک صاف نظر نہیں آتا اور تو اور خود انا بھی اس غیر عملی اور قدرے تخیلاتی کسوٹی پر کھرے نظر نہیں آتے اور ان کی شبیہ بھی لوک پال کے شفاف عکس کے بالمقابل گندلی اور مٹ میلی نظرآرہی ہے۔یہاںلوک پال کا خالق اپنی تخلیق سے چھوٹا نظرآرہا ہے۔
جو میڈیا آج انا ہزارے کی حمایت میںبڑھ چڑھ کر بدعنوانی کے خلاف ’ہرزہ سرائی اور زہرافشانی‘ کر رہا ہے وہی میڈیاالیکشن کے دنوں میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو اپنے قیمتی سلاٹس ’پیکج ‘ کے طور پر فروخت کرتا نظرآتا ہے اور اگرکوئی لیڈر اُن کے اس پرکشش دام تزویر میں پھنستانظر نہیں آتا ہے تو پھراُن کے اندر کا راکشش باہر آجاتاہے اور ’پیکج‘ کی شکل میں پُرکشش ’پیشکش ‘ باقاعدہ اور باضابطہ ’بلیک میلنگ‘ میں تبدیل ہوجاتی ہے’سر ہمیں معلوم ہے آپ کا ذریعہ آمدنی کیاہے‘میڈیا کی بدعنوانی،طغیانی،صحافتی بددیانتی اور بے ایمانی کایہ وہ سچ ہے جو صحافتی پیشہ سے وابستہ ہرفرد،سیاسی جماعتوں سے جڑا ہر رکن اور کارپوریٹ کمپنیوں اور انڈیا اِنک کا ہر پی آر یا ایونٹ مینیجر جانتا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ میڈیا اتناکرپٹ ہونے کے باوجود ہزارے کے یہاں کرپٹ نہیں اور وجہ بالکل صاف ہے کہ آخر میڈیا،ایونٹ منتظمین اورکارپوریٹ کمپنیوں کی این جی اوز کی شکل میں پیداکردہ ناجائز اولادوں کے دم سے ہی تو یہ پوری تحریک چل رہی ہے ،یہ پورا انقلاب لایا جا رہا ہے جو بہت ہی چمتکاری ہے ٹی وی بندہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے اور جہاں تک رام لیلا میں موجود بے چہرہ جم غفیر کی بات ہے تو یہ ہجوم بس ذرا مختلف اوتار میںہرجگہ موجود ہوتا ہے ،کہیں ہرہرمہادیو کے نعرے لگاتے ہوئے توکہیں جے شری رام کی مالا جپتے ہوئے۔یہی ’بے چہرہ‘ ہجوم اس وقت بھی تھا جب دن دہاڑے بابری مسجد کو شہید کیا گیا اور اُس وقت بھی جب دو ماہ تک گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام جاری رہا۔اور یہ بھی کوئی معجزے کی بات نہیں کہ میڈیا ،این جی اوز اور آرمی تینوں لوک پال بل کے دائرہ سے خارج ہیںاور جس ادارے کو فی الحقیقت اس ’چراغ الٰہ دین‘ یعنی لوک پال کے دائرے سے خارج ہونا چاہیئے اس کولوک پال کے دائرے میں لانے کے لئےاناہزارے نے کشمیر سے لے کرکنیاکماری تک کو ایک کردیا ہے(پہلے کشمیر اور کنیاکماری ہندوستان کے جغرافیہ میں دوانتہائیں تھیں مگر انا کی دس دنوں کی بھوک دونوں انتہاؤں کے درمیان خلیج کو کھاگئی ،اب کشمیر سے کنیاکماری تک سب ایک ہوگیا ہے)۔
اول تو شروع سے ہی یہ شکایت ہوتی آرہی ہے کہ ہمارا وزیر اعظم بہت کمزور اور ربرکی مہر ہے اور اسے اب اور کمزور کیا جا رہاہےاوراس حماقت کو ہم اپنی جیت سمجھ رہے ہیں۔حیرت ہے کہ ایک شخص کی خباثت اب لوگوں کو کرامت نظرآرہی ہے۔اور اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہمارے قومی اخلاقی کردار کے فقدان کو کرنسی میں تبدیل کردیاگیا ہے ،اب اخلاقی بدعنوانی کوئی بدعنوانی نہیں ،جو بھی ہے وہ کرنسی کی بدعنوانی ہے۔ملک میں جتنے بھی 24/7 نیوز چینل ہیں بلامبالغہ یہ کہنے میں کوئی تأمل نہیں کہ بیشترادارےکارپوریٹ کمپنیوں ،بیروکریٹس اور سیاستدانوں کے درمیان،توڑ پانی،مول تول ،مفاہمت اور سودے بازی کا محورومرکز بن چکے ہیں۔ دور جانے یا دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں،رادیہ کے ٹیپ ریکارڈس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ چشم کشا ہیں۔ملک میں موجود بیشترمیڈیا ہاؤسزبےایمان ،بدکردار اور بدعنوان ہیں۔ یہ خبروں کو دباتے ہیں،ان خبروں کو جن سے ان کے مفادات پرکاری ضرب لگنے والی ہوتی ہےاور وہ موقع و محل کی مناسبت سے رپورٹر کو صحیح ’راستہ‘ بھی دکھادیتے ہیں اور وہ رپورٹریا صحافی جو سماج میں پائی جانے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کے خلاف آوازیں اٹھاتاہے،جو حقائق کا متلاشی ہوتا ہے، قلمی جہاد کرتا ہے اپنے اسی ادارے میں جس میں وہ کام کرتے ہوئے اپنے بشری سماجی فرائض ایمانداری سے انجام دیتا ہے اپنے ہی حق کے لئے آواز نہیں اٹھاپاتااور وہ اُس وقت سماج کا سب سے زیادہ ستم رسیدہ آدمی ہوتا ہے۔اس سے صرف یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق کے لئے لڑے اپنے حق کےلئے نہیں۔آخر ہمارا میڈیا جب بدعنوان نہیں ہے تو وہ کشمیری سچ کو کیوں نہیں لکھتا وہ اُس سچ کو کیوں لکھتا ہے جسےہماری سرکار سچ مانتی ہےاورجوسچ نہیں ہوتا۔ہمارے اس باوقارمیڈیا نےاناہزارے کے فریم کے ساتھ ایک آدھ فریم ایروم شرمیلا کا کیوں نہیں دکھایا،ایروم شرمیلا نے جب اناہزارے سے درخواست کی کہ وہ ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں منی پور،سکم اورناگالینڈ میں نافذآرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کو ختم کرنے کے لئے جس کے لئے وہ خود گزشتہ دس سال سے بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں آپ آواز اٹھائیں اوراِس ’عاشقِ بدعنوان‘نے جو کہ سابقہ فوجی ٹرک ڈرائیور ہونے کے ناطے مذکورہ قانون کی تنسیخ کا مطالبہ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ ’دیش دروہی‘ اور ’فوجی خاندان‘ یا ملٹری امپائر کے ساتھ غداری کے زمرے میں آجائے گا، جب کوئی لب کشائی نہیں کی تومیڈیا نے بازپرس کیوں نہیں کی؟۔میڈیااِس وقت اناہزارے فنومنا(مظہر) کو کیش کرنے کے تمام حربےاستعمال کر رہاہےاورمورکرسٹیئن دین دا کرائسٹ(More Christian than the (Christ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ سے زیادہ بڑا عیسائی یابہ الفاظ دیگر دین مسیح کا حضرت عیسیٰؑ سے زیادہ بڑا پیروکار ہونےکاکا کردار اداکرتا ہوا نظرآرہاہے لیکن ’سچ مت کہو چپ رہو‘ ٹریڈ مارک والےاُنہیں اداروں میں ایمانداری سے کام کرنے والے افرادکوسچ نہیں بولنے دیتے، یہ سچائیوں کو دباتے ہیں ،ان سچائیوں کو جو ہماراقومی کردار تشکیل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں،روشنی پھیلانے والے یہ ادارے خود روشنی سے ڈرتےہیں۔
میڈیا کی اخلاقی اور کرنسی بدعنوانی کی سیکڑوں مثالیں ہیں میڈیا کا پوراکا پورا وجود ایک بھرم پر ٹکا ہوا ہے اور اور وہ بھرم یہ ہے کہ وہ جمہوریت کا چوتھا ستون ہے جبکہ اصل میں یہ جمہوریت کےچوتھے ستون کا نہیں بلکہ اخلاقی بدعنوانی کو جواز فراہم کرنے والا کردار ادا کررہے ہیں۔اور ان کے مالکان اپنے اس کردار سےخوب واقف ہیں۔جن کمپنیوں کے اشتہارات یا’جبری خیرات‘ کی وجہ سے ہمارے نیوز چینل چلتے ہیں کیا وہ کمپنیاں کرپٹ نہیں ہیں؟اگروہ کمپنیاں آج یومیہ،ماہانہ اور سالانہ ہزاروں کروڑ کا ٹرن اوور کرتی ہیں تو کیا یہ جائز طریقہ سے کمائی ہوئی آمدنی ہے؟آخراتنا پیسہ ان کے پاس کہاں سے آیا؟قطرہ قطرہ سمندر بنا ؟۔ایسا قطعاً ممکن ہی نہیں۔بےایمانی کئے بغیر آپ کا امیر ہونا تقریباً ناممکن سا ہے۔ اگرآپ لکھ پتی یا کروڑ پتی ہیں تو یقیناً یہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی آمدنی نہیں ہوسکتی کیونکہ ہمارے’ سرکار‘ کےپاس غریب رعایا کوایمانداری کے ذرائع سے لکھ پتی بنانےوالی ایسی کوئی پالیسی ہی نہیں ہے،سرکار چاہتی ہی نہیں کہ اس کی’ غریب جنتا ‘ امیر ہوجائے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب سرکار کرپٹ ہے تو اس کا طریقۂ کار بھی کرپٹ ہوگا،اس کے پروگرامز اور اسکیمیں بھی کرپٹ ہی ہوں گی اورپھر وہ لوگ بھی کرپٹ ہی ٹھہریں گے جو ان اسکیموں اور پروگراموں سے مستفید ہوتے ہیںکیونکہ وہ ایک کرپٹ حکومت کے کرپٹ اسکیموں کا گرچہ ایمانداری سے ہی کیوں نہ سہی استعمال کرتے ہیں ۔یہ گھر گھر کی کہانی ہے،یہی سچ ہے،یہ گاؤں دیہات سے لےکر شہروقصبات کی کہانی ہے،یہ میری اور آپ کی کہانی ہے یہ انا کی کہانی ہے۔ اس ملک میں کون ہے جس کے پاس جائزآمدنی ہے؟سچ تو یہ ہے کہ جائز آمدنی تو قلاشوں اور فقیروں کےپاس بھی نہیں۔وہ بھی پولس کو ہفتہ دیتے ہیں۔
کیا انا ہزارے کو نہیں معلوم کہ ایک کمپنی قائم کرنے کے لئے فائل کیسے کیسے، کہاں کہاں اور کس کس کے پاس سے ہوکر گزرتی ہے؟ممکن ہے انا ہزارے کرپٹ نہ ہوں لیکن کیا ان لوگوں سےگھرے ہوئے نہیں ہیں جومالی اور اخلاقی طور پر کرپٹ ہیں؟کیاسچ کو دبانا اخلاقی بدعنوانی نہیں؟ ایک وکیل یہ جانتا ہے کہ اس کا موکل خاطی اور قصور وار ہے پھر بھی وہ اس کا دفاع کررہا ہے کیونکہ یہ اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے،اس نے گناہ کو معصومیت میں تبدیل کرنے کے پیسے (معاف کرنا رشوت نہیں) لئے ہیںلیکن وہ اپنی اس پیشہ ورانہ ذمہ داری میںکیا وہ سچ کا خون نہیں کررہاہے؟ اب اگر وہ مجبوراًکر رہا ہے تو یقیناً اُس سے زیادہ مجبور اورلائق رحم آدمی دنیا میں کوئی اور نہیں( لہٰذا پرشانت بھوشن نہایت مجبور اوراخلاقی طور پر’بدعنوان‘ ہیں) اور اگر قصداًکر رہا ہےتو اس سے زیادہ بڑا مجرم کوئی اور نہیں۔کرن بیدی غیرذمہ دار پولس افسر تھیں اور چونکہ ان کو دہلی کی پولس کمشنری کا عہدہ نہیں ملا اس لئے وہ اپنی انا نہیں بلکہ ’ہین بھاؤناوں‘ کو خوراک بہم پہونچاتے ہوئےملازمت سے رضاکارانہ طور پر مستعفیٰ ہوگئیں(لہذا مالی طورپر تو نہیں لیکن اخلاقی طور پر وہ بھی زہدوپارسائی کا دعویٰ نہیں کرسکتیں۔ اروند کیجری وال آر ٹی آئی کے نام پر دلی اور نوئڈا میں اپنا گورکھ دھندا چلا رہا ہو یا نہ چلا رہا ہو،وہ بلیک میلنگ کا بزنس کرتا ہو یا نہ کرتا ہو لیکن اس کے این جی او کی مالی اعانت کرنے والے ارب پتی افراد نہ تو مالی اور اخلاقی طورپرایماندا رہوسکتے ہیں اور نہ ہی اتنے بھولے بھالے کہ بغیر کسی مفاد کے کیجری وال کو لاکھوں روپئے کا عطیہ دیں۔اب بس لے دے کر ایک ہی آدمی بچتا ہے او روہ ہے انا ہزارے۔اب جہاں تک انا ہزارے کی بات ہے تو وہ ممکن ہے کہ مالی طور پر بدعنوان نہ ہوں لیکن جو آدمی کرنسی کی بدعنوانی کو ہی اصل بدعنوانی سمجھتا ہو وہ اگر اپنی نجی زندگی میں اخلاقی طور پر بدعنوان ہو،’ہریجنوں‘ کو ہریجن سمجھتا ہو،بھیدبھاؤ ،ذات پات اور علاقائیت پر یقین رکھتا ہو،می مراٹھی مانس اور راج ٹھاکرے کی حمایت کرتا ہو،مودی کی تعریف کرتا ہو،آرایس ایس سے انفلوئنس(متأثر ہونا) ہوتا ہو،شردپوار کو سادھو سنت قراردیتا ہو، شری بال ٹھاکرے سے ڈرتا ہو،ولاس راؤ دیشمکھ کے اشارے پراین سی پی کے بدعنوان اراکین اسمبلی کی فائل کھولتاہو اور ان کے خلاف دھرنےپر بیٹھ جاتا ہو،گجرات فساد،بابری مسجد کی شہادت،۱۹۹۳ کے فرقہ وارانہ فسادات،بھوپال گیس سانحہ،نکسلزم،کشمیری جنگجوئیت اور معصوموں کی ہلاکت پر کچھ نہ بولتا ہو وہ اخلاقی طورپر بدعنوان نہیں تو پھر کیا ہے۔شائد یہ سمجھنے میں لوگوں کو وقت لگے کہ ہزارے ایک برانڈ بننا چاہتے تھے سو وہ بن گئے،ایک ایسا برانڈ جو ہر اس شخص کے لئے دستیاب ہے جو ان کی کبھی نہ ختم اور بجھنےوالی بھوک ہڑتال کی خواہش کو پورا کرتا ہو،اب وہ کانگریس بھی ہوسکتی ہے، بی جے پی بھی ہوسکتی ہے اور آرایس ایس بھی۔سادہ لوح عوام کو (جس کا غصہ اور بھولنے کی بیماری دونوں ہم ممبئی حملہ میں دیکھ چکے ہیں)جوآج اناکوگاندھی سے تعبیر کررہے ہیں شائد یہ معلوم ہونے اور سمجھنےمیں وقت لگ جائے کہ انا ہزارے کا سب سے بڑا جرم کیا ہےلیکن معاشرے کے باشعورافراد یہ جانتے ہیں کہ انا کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ان کے یہاں کرنسی کی بدعنوانی کی جگہ اخلاقی بدعنوانی جائز ہےاوراگر سب لوگ اسی نہج پر سوچنے لگے (حالانکہ غالب اکثریت جس کی نمائندگی اناہزارے کررہے ہیں ایسا ہی سوچتی ہے) تو یہ ملک کے لئے اور بھی برا وقت ہوگا اور پھر شائد آنے والی نسل اس جرم کے لئے انا کو کبھی معاف نہ کرے ۔۔۔
مان لیتے ہیں کہ اناہزارے کا قانون بائبل ہے تورات ہے،گیتا ہے’ قانون فطرت‘ ہے جس سے مفر ممکن نہیں،ہم یہ مان لیتے ہیں کہ روٹی ،کپڑا اور مکان نہیں لوک پال ہماری بنیادی ضرورت ہے ۔فرض کرلیں کہ لوک پال بل کاغذ پر عالم خیال میں تمام مسائل کا حل ہے لیکن عملی زندگی میں اس کی اگر ۱۰۰ نہیں تو کم ازکم ۹۰ فیصد تطبیق اور تنفیذکو یقینی کیسے بنائیں گے؟اگر لوک پال بل منظور ہوگیا،اسے آئینی حیثیت حاصل ہوگئی تواسکے افراد کہاں سے لائے جائیں گے،موجودہ سرکاری ڈھانچے سے یا پھرروزگار پیدا کرنے کا ایک اور راستہ کھولا جائے گا؟اور ان سب افراد کے ایماندار ہونے کی سرٹیفیکیٹ کون دے گا؟اگر نئی بھرتی ہوگی تو یہ کیسے پتہ چلایا جائے گاکہ یہ آدمی آگےچل کر کرپٹ نہیں ہوگا اور اگر موجودہ ڈھانچے میںسے افراد لائےجائیںگے توکیا وہ ایماندار ہوں گے؟ موجودہ بدعنوان سرکاری ڈھانچہ کاسرکاری نوکراور ایماندار؟؟؟یہ تو معجزہ لگتا ہے۔اورپھر اِس زندہ و جاوید معجزے کے ایماندار ہونے کی سندپرکون دستخط کرےگا؟اور جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ لوک پال کا آدمی جب اتنے سارے اختیارات پانے کے بعد زمینی سطح پر آکر کام کرے گا توکیا وہ اللہ میاں کی گائے بن کر رہے گا؟ جب ممبئی میں انڈرورلڈ گینگ سے نمٹنے کے لئے پولس کو انکاؤنٹر کے اختیارات دیئے گئے تو سب نے دیکھا کہ پولس نےان قانونی اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےفورس کے اندر ایک اور فورس قائم کرلیا تھا اور اب جو کام لوگ مافیا سربراہوں سے کراتے تھےوہ پولس سے کرانے لگے تھے۔نتیجتاً پولس اور گینگ کے درمیان ایک تعلق قائم ہوگیا۔ انڈر ورلڈختم تو ہوا لیکن پولس کی ہی ایک دوسری شکل بن کر۔اب پولس کی ایک شکل تو وہ تھی جو زمین پرنظرآرہی تھی اور ایک شکل وہ تھی جوانڈرگراؤنڈ تھی ،غیر مرئی تھی اور سفاک تھی۔لوک پال بھی فورس کے اندر ایک اور فورس پیداکرے گا اور ایک دن پھر اس کی بھی تنسیخ کا مطالبہ اتنی ہی شدت سے کیا جائے گا جتنا آج اس کے نافذ کئے جانے پرکیا جارہا ہے۔
ہندوستان میں لوگ قانون کی عزت قانون کے احترام میں نہیں کرتے بلکہ قانون کے خوف سے کرتے ہیں لہٰذا جہاں خوف ہے وہیں قانون ہے اور جیسے ہی خوف گیا قانون بھی گیا۔یہ قطعاًبالغ اورصحت مند معاشرے کی علامت نہیں۔ہم نے ایک ایسا عفریتی ماحول پیداکیا ہے جہاں ہم عوام کے سامنے قانون ایک طاغوت اور ایک عفریت کی شکل میں پیش کرتے ہیںاور عوام کے اندر خوف کے جذبات پیداکرتے ہیں،نہ توہم قانون اس مقصد سے بناتے ہیں اور نہ ہی اس طرح متعارف کراتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں قانون کےخوف کی بجائے اس کا حترام پیدا ہو۔ہمارے یہاں قانون کا مطلب اصلاح نہیں بلکہ سرزنش ہوتی ہے اورجب تک ہم سرزنش کے مقصد سے قانون بنائیں گےقانون بنتے اور بگڑتے،آتے اور جاتے رہیں گے، اس کا کوئی مثبت ماحصل نکلنے والا نہیں،۔لوک پال بل میں بھی اصلاح کا مقصد کم اور سرزنش زیادہ نظر آتی ہے،کارخیر پرنیت ِشر حاوی ہےاور اس مقصد کو مدنظر رکھ کر جو بھی سخت قوانین بنائے گئے آج ان کا حشر ہم ردی کی ٹوکری میں دیکھ رہےہیں۔افسوس صد افسوس ۔ وائے رے بدقسمتی کہ یہ عاشق کا گریباں ہونے کے طرہ امتیاز سے بھی محروم رہے۔ ٹاڈا یوں تو تجمل حسین خان کے لئے بنا تھا سب کو معلوم ہےلیکن جب رام لکھن وغیرہ بھی پھنسنے لگے توحکومت کو لگا کہ کہیں کچھ غلطی ہوگئی ہے اس لئے یہ قانون واپس لے لیتے ہیں۔پوٹا کا بھی وہی حشر ہوا ،بی جے پی پوٹا بنا کربہت خوش تھی کہ دہشت گردوں نے پارلیمنٹ پردھاوا بول کر پوٹا کا عظیم الشان خیر مقدم کیااور پھر دہشت گردوںکی جانب سے پوٹا کااستقبالیہ جگہ جگہ منایا گیا۔عائلی تشدد اور جہیز ، تحفظ حیوانات ایکٹ، ایٹروسٹیز ایکٹ جیسے ایسے پتہ نہیں کتنے ایکٹ دفعات اور قوانین ہیں جن کا بہت احترام سے ہم النگھن کرتے ہیں۔سوال پھر وہی ہے کہ جو چیز ہمارے قومی کردارومزاج کا حصہ نہیں ہم لوگوں کو قانون کی ’بےاثر جادوئی چھڑی‘ سے اس کا مکلف کیسے اور کب تک بنائیں گے؟
ایک سوال: جب لوک پال بل کا غلط استعمال ہوگا تو انا جی کی روح پر کیا گزرے گی؟
Subscribe to:
Posts (Atom)